نیب ترامیم……!

”حلقہ احباب ”،ایس کے نیازی
نیب کے حوالے سے آئے دن کوئی نہ کوئی ایک نیا بیان سامنے آجاتا ہے، کبھی کوئی اس کے اختیارات کے حوالے سے بات کرتا ہے تو کبھی کوئی اس کو ختم کرنے کے حوالے سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے ، مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادارے کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اختلافات سے ہٹ کر بات اور طرف چل پڑتی ہے، احتساب کا ادارہ ہر ملک میں موجود ہوتا ہے جو کرپشن اور بد عنوانی کیخلاف کارروائی کرنے کا مجاز ہو تا ہے ،سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر احتساب کرنا چاہیے ، نیب کو ماضی کو بھی دیکھنا چاہیے ، لیکن زیادہ ضرورت حال دیکھنے کی ہے ، ایسا نہ ہو کہ حال بھی ماضی کی تقلید کرنا شروع کر دے، ماضی کھنگالنے سے شاید کچھ حاصل نہ ہو البتہ اگر حال پر توجہ دی جائے تو بہت کچھ حاصل وصول ہو سکتا ہے ، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ نیب کے اہلکار کسی کو بھی ذاتی یا سیاسی بنیادوں پر حراساں نہ کریں اور اگر ایسی کوئی رپورٹ سامنے آتی ہے تو چیئرمین نیب کو فی الفور تادیبی کارروائی کرنا چاہیے، جب بات حال کی ہو تو پھر یقینی طور پر قوم نتائج کی متمنی ہو تی ہے ، ماضی میں جانے سے مزید معاملات گھمبیر ہو جاتے ہیں، جو منزل مقصود متعین کی گئی ہوتی ہے اس کو حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، نیب جانچ پڑتال ضرور کرے لیکن اس میں انصاف اور مساوات کا تاثر قطعی طور پر برابر نظر آنا چاہیے ،نیب کو بر سر اقتدار وزراء بیانات دے کر متنازعہ بناتے ہیں جس طرح ہمارے دوست وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے بیان دیدیا اسی طرح دیگر وزراء بھی آئے دن کوئی نہ کوئی ایسا بیان داغ دیتے ہیں جس کی وجہ سے نیب کی ساکھ متاثر ہوتی ہے ، حالانکہ چیئرمین نیب محنت اور ایمانداری سے کام کررہے ہیں، اگر چہ نیب میں جو مسائل ہیں انہیں بھی درست کرنے کی ضرورت ہے ، اگر نیب کے اختیارات کم کرنے کی بات کی جائے تو اس کی کوئی منطق نظر نہیں آتی ہے کیونکہ اگر اختیارات کے حوالے سے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو حکمرانوں کے دامن پر چھینٹیں آئیں گی، ادارے جب آزاد ہونگے تب ہی انصا ف ہو سکے گا، ایسے وقت میںجب حکومت کرپشن کیخلاف کمر بستہ ہو تو نیب کو موضوع بحث بنانا مناسب نہیں، اگر نیب کے اختیارات کو کم کیا جا تا ہے تو پھر احتساب ممکن نہیںاور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ”ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود ایاز ، نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز ” اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر یک طرفہ احتساب سیاست کی نظر ہو جائے گا، صرف قومی سطح پر نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی انگلیاں اٹھیں گیں ، ہمیں کپتان کی نیت اور اس کے فیصلوں پر کوئی شک نہیں البتہ یہ ضرور کہیں گے ہم کہ وزیر اعظم کو اپنی ٹیم پر لازمی نظر ڈالنا چاہیے اور سب سے بہترین انصاف و احتساب وہی ہو تا ہے جو گھر سے شروع ہو ، نیز اگر حکومت چین ماڈل احتساب یا انصاف کرے تو اس کے بہت جلدی اور مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں لیکن اس میںکسی کو بھی معافی کی کوئی گنجائش نہیں چونکہ کرپشن ہمارے معاشرے کے اندر گزشتہ 70سال سے سرایت کر چکی ہے ، اس ناسور کو ختم کرنے کیلئے بہت بے رحمانہ احتساب کی ضرورت ہے جوکہ ہر صورت سیاسی وابسگتیوں و مفادات سے ماورا ہو اور اس بات کی نیب بار ہا مرتبہ یقین دہائی کرا چکا ہے ، آج بھی چیئرمین نیب نے واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ ملک سے بد عنوانی کے خاتمے اور بد عنوان عناصر سے لوٹی گئی رقوم کی واپسی کیلئے کسی دبائو ، پراپیگنڈا کی پرواہ کیے بغیر منزل کا تعین کیا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف وطن عزیز پاکستان کو کرپشن فری بنانا ہے ، کرپشن فری بنانے کیلئے بہت زیادہ قربانیاں دینا پڑیں گی، اور حکومتی صفوں میں بھی جو اراکین کرپشن میں ملوث ہیں سب سے پہلے ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے اور پھر ساتھ ساتھ اپوزیشن اور دیگر کرپٹ افراد کو بھی پابند سلاسل کر کے ان سے لوٹی گئی رقم واپس لی جائے، یہاں ہم یہ ضرور عرض کریں گے کہ نیب ہو یا کوئی بھی ادارہ اس کو انصاف یا فیصلے کرنے کیلئے لازمی طور پر ایک ٹائم فریم کا تعین کرنا ہو گا، کیونکہ آج حکومت کے دو سال مکمل ہو چکے ہیں مگر اس کے باوجود قوم نتائج اور وعدے وعید کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی منتظر ہے جو کہ حکومت نے کیے تھے، وہ خیر سے من و عن عمل ہوتے ہوئے تو خال خال ہی نظر آتے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ ایک مدت مقرر کر کے فیصلے کیے جائیں اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔نیز نیب کا کام ہے وہ بڑے بڑے کیسز پر ہاتھ ڈالے گو کہ اس نے اس سلسلے میں ہاتھ بھی ڈالے اچھے نتائج بھی حاصل ہوئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف ، زرداری، فریال تالپور اور نواز شریف کے صاحبزادوں کوکیوں چھوڑ دیا گیا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اور اسی وجہ سے نیب متنازعہ بن گیا ہے ، نیب کے اختیارات کم کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ، احتساب کے حوالے سے ایک خود مختار ادارے کی ضرورت ہے جوکہ کرپٹ افراد اور کرپشن کیخلاف تادیبی کارروائی کرے ، ورنہ کرپٹ عناصر شتر بے محار ہو جائیں گے ۔