شفقت محمود کی میڈیا ہینڈلنگ زبردست لیکن ۔۔۔۔۔؟

تحریر ۔ سردار خان نیازی

انکشاف ہوا اور حیرتوں کا باب گویا کھل گیا۔یہ بات میرے لئے انتہائی انکشاف انگیز تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ابھی تک پرنٹ میڈیا کو 2ارب 65کروڑ کے اشتہارات جاری کیے ، جبکہ صوبوں کے معاملات اس سے علیحدہ ہیں، میں یہ سن کر انگشت بد انداں رہ گیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیا وزیر اعظم عمران خان ان تمام چیزوں سے لا علم ہیں اور کیا انہیں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے؟
یہ تمام صورتحال اس وقت منکشف ہو ئی جب پرنٹ میڈیا کے بقایا جات کے حوالے سے ایک اجلاس میں بات کھلی۔ وفاقی وزیر شفقت محمود اجلاس کی صدارت کررہے تھے اس اجلاس میں عارف نظامی، حمید ہارون ، میر ابراہیم، سرمد،شکیل مسعود ،ڈاکٹر جبار، اعجاز الحق بشمول میرے دیگر لوگ شامل تھے، جبکہ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، شہزاد اکبراور سیکرٹری انفارمیشن نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی ، یہ اجلاس دو سے ڈھائی گھنٹے تک چلتا رہا ۔
شفقت محمود نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حکومت ان کا گلا گھونٹ رہی ہے اور اشتہارات جاری نہیں کیے جاتے مگر حقائق اس کے قطعی طور پر برعکس ہیں، دراصل میڈیا ان اخبارات کو سمجھاجا رہا ہے جو کہ اصل میڈیا نہیں ہیں، اجلاس میں موجود شہزاد اکبر نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرا لیتے ہیںتو میں کچھ مطمئن ہو گیا، میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اس مسئلے پر بات نہ کروں لیکن چونکہ برادر محترم خوشنود علی خان نے واقعہ اپنے کالم میں لکھ دیا ہے تو اب میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ چند باتیں کر دی جائیں۔
جناب وزیر اعظم عمران خان کو بھی کچھ چیزوں کو دیکھنا ہو گا، جن کو تحقیقات کے حوالے سے فرائض سونپے جائیں وہ بھی اس پر غور فرمائیں، سینہ گزٹ میں اب بہت سے باتیں گردش کررہی ہیں، اگر چہ میں اس سینہ گزٹ پر یقین نہیں رکھتا لیکن سیانے کہتے ہیں کہ مارنے والے کا ہاتھ روکا جا سکتا ہے لیکن باتیں کرنے والوں کی زبان کو کون روک سکتا ہے ۔ لوگ تو یہاں تک کہہ رہے ہیںکہ پنجاب میں جو یہ ہر روز وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی تعریف میں ایڈیشن شائع ہو رہے ہیںاس کے پیچھے بھی طویل کہانیاں ہیں، آخر کار عثمان بزدار نے ایسا کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے کہ روز ان کے کلر ایڈیشن شائع ہو رہے ہیں، میں تویہ سمجھتا ہوں کی کہ کچھ کیا ہی ہو گا تو کلر ایڈیشن شائع کیے جا رہے ہیں لیکن خلق خدا سوال اٹھا رہی ہے کہ یہ کہیں پیڈ کانٹینٹ تو نہیں ۔
اب جہاں تک دو ارب 65کروڑ کی بات ہے تو یہ اتنی خطیر رقم ایسے ہی تو نہیں خرچ ہو گئی ، اس کا کسی کے پاس کیا جواب ہو گا، کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اخبارات کا معیار اور سرکولیشن کی بجائے یہ دیکھ کر نوازا جاتا ہے کہ حکومت کے بعض وزیروں کی تعریف میں کتنے کالم شائع کیے گئے ہیں، لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کک بیک بھی لیا گیا ہے ،اس سینہ گزٹ میں ایک بات اور بھی چل رہی ہے کہ فردوس عاشق اعوان کی ذمہ داریاں آنے والے دنوں میں جناب شفقت محمود کو سونپ دی جائیں گی، یہ بات کہاں تک درست ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ سینہ گزٹ تو بہر حال سینہ گزٹ ہی ہوتا ہے ۔میں تو سمجھتا ہوں کہ مشیر اطلاعات بڑی محنتی شخصیت کی حامل ہیں، لیکن میرے سمجھنے سے کیا ہو گا، لوگ تو بہت کچھ کہہ رہے ہیں، ہم تو جانتے ہیں کہ سیکرٹری اطلاعات کی کریڈیبلٹی بہت عمدہ ہے ،پی آئی او سے بھی میرے پرانے تعلقات ہیں، لیکن ہمارے جاننے سے کیا ہوتا ہے ، جو بات چل رہی ہے اس کا تدارک کیوں کر کیا جا سکتا ہے ، اجلاس کے خاتمے کے بعد متعدد ٹیلی فون آئے جس میں سوالات اٹھائے گئے کہ مشیر اطلاعات کے ہوتے ہوئے میٹنگ میں نمایاں پوزیشن شفقت محمود صاحب کی کیوں تھی؟ اب آپ ہی بتا دیجئے ایسے غیر سنجیدہ سوالات کا کون جواب دے لیکن لوگوں کو تو نہیں روکا جا سکتا۔
تاہم ایک بات تو اہم ہے کہ شفقت محمود نے میڈیاہینڈلنگ بڑی زبردست کی ،اجلاس کے دوران جناب عارف نظامی نے بھی انتہائی اہم ترین نقطہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جنہیں اشتہارات تقسیم ہو رہے ہیں، بلکہ اگر یوں کہا جائے تو زیادہ دیئے جا رہے ہیں تو غلط نہ ہوگا ، حالت یہ ہے کہ انہوں نے کارکنوں کی 12۔12ماہ تک کی تنخواہیں ادا نہیں کیں۔ حکومت اس جانب بھی توجہ دے کہ جن کو نوازا گیا ہے ان کے پس پردہ اصل حقائق کیا ہیں، کیا یہ حکومت کے خلاف کہیں کچھ کام تو نہیں ہو رہا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی بنیادی پالیسی شفافیت اور ایمانداری ہے ، پھر یہاں کس نے یہ نقب زنی کی ، میں ایک بات اور بھی بتاتا چلوں کہ پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان میرے اچھے دوست ہیں اور وہ شفاف شخصیت رکھتے ہیں، عثمان بزدار کے بارے میں بھی لوگ یہی کہتے ہیں کہ وہ بھی ایماندار ہیں، لیکن حکومتی صفوں میں ان کا لی بھیڑوں سے پردہ واشگاف کرنا ہو گا جو ” میر جعفر اور میر صادق ” کا کردار ادا کررہی ہیں، شاید اسی وجہ سے ابھی تک حکومت پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے اشتہارات کے حوالے سے کسی شفاف پیمانے کا تعین ہی نہیں کر سکی ، اور اسی وجہ سے شاید بند ر بانٹ کا ایک بازار گرم ہے ، یہ 2ارب 65کروڑ کوئی چھوٹی رقم نہیں ہے لیکن اس کے تقسیم کار کون تھے، کن بنیادوں پر انہوں نے اقرباء پروری کی ، کپتان کو کیوں اندھیرے میں رکھا گیا، اس کو بریفنگ کیوں نہیں دی گئی ، یقینی طور پر اگر کپتان کے علم میں یہ بات آجاتی تو وہ اس پر فی الفور ایکشن لیتے ، لیکن عمران خان کی ٹیم میں شاید کچھ ایسے لوگ شامل ہیں جو ایسی کارروائیوں کی ہوا تک اوپر جانے نہیں دیتے مصداق اس کے کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو دے ، جو کہ انتہائی غلط بات ہے ۔
وزیر اعظم صاحب آپ اس جانب باقاعدہ توجہ دیں اور اتنی بڑی رقم کی جو تقسیم ہو ئی ہے اس کا باقاعدہ آڈٹ ہونا چاہیے ، پھر حکومت پر یہ الزام کہ وہ میڈیا کو اشتہارات نہیںدیتی تو یہ اربوں روپیہ کدھر چلا گیا، جب فہرستیں سامنے آئیں گی تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ہمیں وزیر اعظم عمران خان کی نیت اور ان کے کام پر کوئی اعتراض نہیں البتہ ان لوگوں پر ضرور اعتراض ہے جو حکومت کی کشتی میں بیٹھ کر ہی اس میں سوراخ کررہے ہیں ، اس سے پہلے کہ کشتی گرداب میں پھنس جائے،کپتان کو چاہیے کہ وہ ایکشن لیں تاکہ آنے والے وقت میں ایسا نہ ہو کہ حق دار حق کو ترستا رہے اور چاہنے والوںکو نوازا جاتا رہے ۔