آئی سی سی نے دہائی کی ٹیموں کے انتخاب میں تعصب برتا:آکاش چوپڑا

سابق ہندوستانی کرکٹر آکاش چوپڑا نے تمام فارمیٹس میں آئی سی سی ٹیموں کی دہائی کے انتخاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ آئی سی سی کی منتخب کردہ تینوں ٹیموں میں کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ آکاش چوپڑا نے اپنے یوٹیوب چینل پر متنازعہ انتخاب کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے کہا کہ دہائی کی ٹی ٹونٹی ٹیم ان کے لیے بطور کرکٹر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئی سی سی نے ٹیم میں صرف تین بالروں کا انتخاب کیا اور ان میں عمر گل یا سعید اجمل کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ایم ایس دھونی کے بطور وکٹ کیپر اور ٹیم کے کپتان کے انتخاب پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں دھونی کی پرفارمنس اتنی خاص نہیں تھی ،ہندوستان نے دہائی میں ایک بھی ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ نہیں جیتا تھا اس لئے ان کا انتخاب نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔

آکاش چوپڑا نے مزید کہا کہ دہائی کی ٹیسٹ ٹیم زیادہ متوازن نظر آتی ہے لیکن اس میں اب بھی کوئی پاکستانی کھلاڑی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان نے اس دہائی میں 57 کی اوسط سے رنز بنائے لیکن انہیں بھی اس ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا،انہوں نے جنوبی افریقی بیٹسمین ہاشم آملہ کی عدم موجودگی پر حیرانگی کا اظہار کیا۔ آکاش چوپڑا نے دہائی کی ون ڈے ٹیم میں ہونے والے انتخاب پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ محمد حفیظ کو دہائی بھر میں عمدہ آل راؤنڈ پرفارمنس کی وجہ سے غور کیا جانا چاہئے تھا۔ چوپڑا نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دہائی کی ٹیموں میں انتخاب متعصبانہ لگتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ تینوں ٹیموں میں سے ایک بھی پاکستانی نہ ہونے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے انتخاب میرٹ کی بجائے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے بنیاد پر ہوا ہے۔