یو اے ای میں بھارتی ملازم نے ناقابل یقین فراڈ کر ڈالا

یہ دُنیا عجیب و غریب نوسربازیوں اور دھوکا دہی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہر روز فراڈ کی ہزاروں وارداتیں پیش آتی ہیں ۔ تاہم امارات میں ایک انوکھی واردات پیش آئی ہے جس میں ایک ملازم مسلسل دو سال تک اپنے باس کے لاکھوں درہم ہڑپ کرتا رہا، مگر باس کو خبر تک نہ ہو پائی۔ چالاک بھارتی ملزم نے ایک دو بار نہیں، بلکہ پورے 47 بار اپنے باس کے جعلی دستخط کر کے مجموعی طور پر 4 لاکھ 71 ہزار درہم (تقریباً 2 کروڑ روپے) کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروائی۔

تاہم ایک روز اس کی خراب قسمت نے اس کا سارا بھانڈا پھوڑ دیا ورنہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہنا تھا۔ بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والا 29 سالہ نوجوان آٹھ سال سے ایک بھارتی بزنس مین کشن چند بھاٹیہ کے ہاں ملازمت کر رہا تھا۔پچھلے دو سال کے دوران اس کی نیت بے ایمان ہو گئی۔ اس نے اپنے باس کی ایک چیک بُک چُرا لی اور پھر تھوڑے تھوڑے دن کے وقفے سے ایک ایک چیک پر باس جیسے دستخط کر کے رقم اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرواتا رہا۔

72 سالہ بھارتی باس کشن چند بھاٹیہ نے بتایا” ملزم میرے انتظامی عملے میں 8 سال سے ملازم تھا، فرم کے مالی معاملات دیکھنے کی وجہ سے چیک بکس بھی اس کے پاس ہوتی تھیں۔ مجھے کبھی اس پر شک نہ ہوتا اگر ایک روز اتفاقاً میں اس کے میز کی دراز چیک نہ کرتا اور مجھے اس میں ایک ایسی چیک بک نظر نہ آتی جس میں چیک تو کوئی نہیں تھا، البتہ بقیہ حصوں پر بینک کے عملے کے تصدیق شدہ دستخط موجود تھے، جن سے پتا چلتا تھا کہ اس چیک بک کے تمام چیکس کے ذریعے رقم کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے۔

مجھے یہ ٹرانزیکشنز مشکوک لگیں۔ جب بینک کے ذریعے ان چیکوں کی ٹرانزیکشن کی پڑتال کروائی گئی تو میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، کیونکہ ان تمام چیکوں کے ذریعے ملزم نے 4 لاکھ 71 ہزار درہم کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کروا لی تھی۔“ میں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دے دی۔ جس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ عدالت نے بھارتی ملزم کو فراڈ کے الزام میں چھ ماہ قید کی سزا سُنا دی ہے اور اسے چُرائی گئی 4 لاکھ 71 ہزار درہم کی رقم بھی اد اکرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بھاٹیہ نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا امارتی پولیس اور عدلیہ پر یقین اور مضبوط ہو گیا ہے۔