شیخ رشید کو وزیر داخلہ بنانا خوش آئند فیصلہ

وزیر اعظم عمران خان انتہائی زیرک شخصیت کے مالک ہیں اور ان کا شمار ان کپتانوں میں ہوتا ہے جو بروقت اپنی فیلڈنگ میں بہترین تبدیلیاں کر کے میچ کی کایا پلٹ دیتے ہیں یہ بات انہوں نے ماضی سے لے کر آج تک ثابت بھی کر کے دکھائی ہے جس فیصلے پر وہ ڈٹ جائیں اس پر عمل بھی کرانا جانتے ہیں دراصل یہاں پر ہمارا مقصد اس شخصیت کے بارے میں وزیراعظم کے فیصلے کو سراہانا ہے جو انہوں نے گزشتہ دنوں کیا ،یہ شخصیت سیاست کی دنیا میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتی ہے ،اور جہاں انہیں سینئر ترین سیاستدان ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہاں پر ان میں ایک تاریخ بھی موجزن ہے ، سیاست کے اتار چڑھاءو، دھوپ چھاءوں اور اسرار رموز سے بخوبی واقف ہیں ، ہمارا ان سے ایک درینہ تعلق ہے ، میں اور یہ سپورٹس اکھٹے کھیلا کرتے تھے خوش قسمتی سے میں میڈیا کی دنیا میں آ گیا اور یہ سیاست کی ،ہمارا ان سے ایک انتہائی شفیق اور احترام کا رشتہ آج تک قائم ہے جی ہاں یہ موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید ہیں جن کے بارے میں عمران خان کا بروقت فیصلہ اور انہیں اہم ترین وزارت سونپنا قابل تعریف اقدام ہے ، چونکہ کپتان کی نظر ہر کھلاڑی پر ہوتی ہے ، پھر وزارت داخلہ وزیراعظم کے بعد ایک اہم ترین عہدہ ہے اس اعتبار سے وزیرداخلہ کے لیے شیخ رشید احمد کا چناءو قابل رشک فیصلہ ہے کپتا ن کو معلوم ہے کہ شیخ رشید اپوزیشن کو ہینڈل کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں ،ملک میں امن او امان کے قیام کے حوالے سے بھی وزارت داخلہ کا اہم کردار ہوتا ہے، پھر رینجرز ، ایف سی ،آئی بی ، نادرہ ، سی ڈی اے ، اسلام آباد پولیس جیسے اور بھی اہم ادارے وزارت داخلہ کے ہی ماتحت ہوتے ہیں ،ہم یہاں ایک بات اور بتاتے چلیں کہ یقینی طور پر شیخ رشید کو یہ ذمہ داری تفویض ہونے کے بعد اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ،وفاقی وزیرداخلہ نے اسلام آباد میں بھی غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے ۔ وہ سیاسی حالات کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات پر بھی انتہائی تکنیکی نظر رکھتے ہیں ، اور وقت بھی اس بات کا تقاضا کر رہا تھا کہ موجودہ سیاسی گھمبیر حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسا سیاستدان چاہیے تھا جو سیاسی اسرار و رموز اور سیاسی بساط پر بچھی ہوئی شطرنج کی چال وقت کے حساب سے چل سکے اس کو علم ہونا چاہیے کہ اس وقت کونسا پیادہ کس جگہ چلانا ہے اور شیخ رشید احمد اس بات کے ماہر ہیں سیاست کے حوالے سے وہ اکثر و بیشتر آنیوالے واقعات کے بارے جو پیشنگوئی کرتے ہیں وہ تقریباً درست نکلتی ہے ، اب بھی انہوں نے وزارت داخلہ کا منصب سنبھالتے ہی فیصلہ کیا کہ اپوزیشن کو جلسے کرنے کی اجازت ہے ،یہ وہ فیصلہ تھا جو حکومت کو پی ڈی ایم کے ملتان میں ہونیوالے جلسے کے بارے میں کرنا چاہیے تھا، بہرحال دیر آئےد درست آئےد کے مصداق شیخ رشید کے حوالے سے فیصلہ جو کیا گیا وہ وقت کا تقاضا تھا،پھر ان میں جو سیاسی صلاحیتیں موجزن ہیں اس حوالے سے بھی اب ان کے آگے کھلا میدان ہے کہ وہ اس سیاسی شطرنج کی چال کو کیسے لے کر چلتے ہیں ،وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پی ڈی ایم کی سیاست کے حوالے سے انہوں نے جو بھی بیانات دیئے ہیں وہ بیانات ان کی سیاسی غمازی اور درس نتاءج کے حامل ہیں ،ہم بھی اس بات کے داعی ہیں کہ شیخ رشید احمد سیاسی میدان میں کھیلنے کے حوالے سے جو مہارت رکھتے ہیں شاید ان کا کوئی دوسرا ثانی نہیں ہے ، آپ دیکھ لیں کہ عوامی پارٹی نے آج جتنی بھی قدر و منزلت پائی ہے وہ سب کی سب صرف اور صرف شیخ رشید کی ذاتی و سیاسی کاوشوں کے مرہون منت ہے ،چونکہ شیخ رشید پاکستان اور بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے ایک مقام رکھتے ہیں اور جو ان کی آنیوالے وقت پر نظر ہوتی ہے وہ شاید کسی اور کی نہیں ،یہ وہ خداداد صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے شیخ رشید کو تفویض کی ہے امید واصق ہے کہ آنیوالے دنوں میں اگر کوئی خدانخواستہ سیاسی بحران درپیش ہوتا ہے تو جناب وزیرداخلہ صاحب اس سے بخوبی احسن طریقے سے نمٹنے کی بدرجہ اتم صلاحیت رکھتے ہیں