صدر مملکت،وزیراعظم،چیف جسٹس اور آرمی چیف کے نام سردار خان نیا زی کا کھلا خط ۔۔۔

صدرمملکت ، وزیر اعظم ، چیف جسٹس ، آرمی چیف اور سیکرٹری دفاع کے نام ایس کے نیازی کا کھلا خط
اپنے لہو سے پاک سر زمین سینچنے والے جوانوں کیلئے۔۔۔۔۔
پاک فوج ہمارے ماتھے کا وہ جھومر ہے جس پر جتنا فخر کیا جائے وہ کم ہے اس کی قربانیاں بے شمار ہیں جوان اس مادر وطن کی سرزمین کو اپنے لہو سے سینچتے ہیں،قوم ان بہادر سپوتوں کو سیلوٹ پیش کرتی ہے، صرف قومی سطح پر ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی ہمارے جوانوں کی جواں مردی، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے اس کے بدلے ہم پاک فوج کے جوانوں کو کیا دیتے ہیں تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے ،سرحدوں پر ہمارے جوان ڈٹے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہماری فضائیں محفوظ ،حالات پرسکون اور دہشتگردوں کی بیخ کنی ہورہی ہے ، وطن عزیز کو کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو خواہ وہ قدرتی آفات ہوں ،دہشتگردی کا مسئلہ ہو ، امن و امان کا معاملہ ہو ہر جگہ ہماری فوج پیش پیش ہے اور جو بھی مشکلات درپیش آتی ہیں ان میں ہماری فوج ہمیشہ سرخرو ہوکر نکلتی ہے ،یہی اس کا طرہ امتیاز ہے جس سے پوری دنیا مرعوب ہے ،جب ملکِ عزیز کی سرزمین پر دہشتگردوں نے انت مچا رکھی تھی ایسے میں پاک فوج نے بہت سارے آپریشنز شروع کئے جنہوں نے شرپسند عناصر کی کمر توڑ کر رکھ دی ، ان آپریشنز میں آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردالفساد،آپریشن شیر دل ، آپریشن راہ حق، آپریشن راہ راست ، آپریشن المیزان ، آپریشن راہ نجات قابل ذکر ہیں، آپریشنز کے ذریعے دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ۔پاک سرزمین کو ان کی چیرہ دستیوں سے پاک کیا گیا ، پاکستانی فضایہ ،بحریہ اور سول فورسز اور سیکورٹی اداروں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جنوبی وزیر ستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا،خیبر ایجنسی میں دہشتگرد متعدد کارروائیاں کرتے رہتے تھے وہاں پر آپریشن خیبر ون ، آپریشن خیبر ٹو اور آپریشن خیبر تھری کیا گیا جس کے تحت دہشتگردوں کو انجام تک پہنچایا ، نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیا ، اس کے 20نکاتی پروگرام کے تحت انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا گیا ، ان تمام اقدامات کے دوران ہمارے جوانوں نے بے تحاشہ قربانیاں دیں ، کومبنگ آپریشنز کئے گئے جس میں دہشتگردوں سے باقاعدہ کراس فائرنگ ہوئی جس میںہمارے جوانوں نے اپنی قیمتیں زندگیاں نذرانے کے طور پر پیش کیں کہ اس ملک میں امن وامان قائم ہو ، ملک ترقی کرے ، ان کی قربانیوں کی اتنی طویل داستان ہے جس کو تحریر کرنے کیلئے کئی صفحات مزید درکار ہیں اور یہ احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے ، 1965کی جنگ ہو یا 1971کی یا پھر ابھی نندن کا واقعہ ہو یا ایل او سی پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ ہو یا پاک افغان سرحد پر 2600کلومیٹر طویل باڑ لگانے کا کام ہو ہر جگہ پاک فوج کے جوان ہی کار فرما نظر آتے ہیں ، بھارتی بنیئے کی اس وقت نیندیں اڑ جاتی ہیں جب اس کو پاک فوج کے جری جوانوں کی قربانیاں اور بہادری نظر آتی ہے ، ہمیشہ مسلح افواج نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ، ہمارے جوانوں نے سینے تان کے رکھے اور دشمن کی جرات نہیں ہوئی کہ وہ کبھی آگے بڑھ سکے ، جوانوں میں ایسے ایسے گوہر نایاب ہیںجن کو جتنا بھی خراج تحسین یا خراج عقیدت پیش کیا جائے وہ کم ہے ، حب الوطنی کا جذبہ ان کا نایاب ہے ، پوری دنیا جانتی ہے کہ پاک فوج کا جذبہ شہادت اس کو ہمیشہ کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ، بات دراصل یہ ہے کہ کوئی افسر ہو یا جوان وہ اپنا قیمتی لہو وطن عزیز کیلئے ہمہ وقت پیش کرنے کیلئے تیار رہتا ہے،موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ لوگ کن مشکلات کا شکار ہیں اس کو سامنے رکھا جائے اور ان کی جانوں کی قربانیوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو ہم انہیں کیا دے رہے ہیں ، ایک دفعہ جو اس دنیا سے جان چلی جائے اس کا کوئی نعم البدل نہیں ، آپ دنیا بھر کے جاہ وحشم کے انبار لگا دیں تو بھی صرف زندگی کا ایک سانس بھی نہیں مل سکتا ، ان کی بے مثال قربانیاں ہمارے اوپر ایک قرض ہیں ، اس پرآشوب دور میں ان کی تنخواہیں آٹے میں نمک کے برابر ہیںچونکہ میرا تعلق میانوالی سے ہے اور میرے گھرانے میں بھی بہت سے فوجی جوان ہیں پھر اٹک ،جہلم چکوال کے اضلاع سے بہت زیادہ جوان اپنی خدمات پاک فوج کیلئے پیش کرتے ہیں وہ اپنی جان جان آفریںکے سپرد کرتے دیتے ہیں لیکن وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے ،ہم ان کو زندگی میں ہر قسم کی سہولیات بھی فراہم کردیں تو بھی کم ہیں بہر حال ہمارا فرض بنتا ہے کہ کم از کم ان کی تنخواہیں تو قابل ذکر ہوں ،اہم ترین بات یہ ہے کہ پاک فوج انتہائی منظم ادارہ ہے یہاں صرف افسر کا حکم تسلیم کیا جاتا ہے ،سول اداروں میں تو ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے مطالبات رکھ دیتے ہیں ،ہڑتال کردیتے ہیں ، تالہ بندی کردیتے ہیں ، مظاہرے کرلیتے ہیں ، حقوق بھی اپنے منوالیتے ہیں لیکن وطن کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے کبھی بھی ایسا نہیں کرتے انہیں تو معلوم ہے کہ وطن ہے تو سب کچھ ہے،اس کی خاطر ہماری آن ،شان ،جان سب کچھ قربان ہیں ،اس وطن سے آگے کچھ بھی نہیں ، علامہ اقبال نے کیا خوب کہا کہ
’’یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تونے بخشا ہے ذوق خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی‘‘
یہ ہے ہمارے جوانوں کی صفت کہ ان کی ہبیت سے پہاڑ تک رائی ہوجاتے ہیں تو دشمن کیونکر ان کا سامنا کرسکتا ہے ،ہماری اس تحریر کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ جو جوان قربانیاں دے رہے ہیں وہ قلیل تنخواہوں میں زندگی بسر کررہے ہیں ، ان کو سہولیات اور اچھی تنخواہیں ملنا انتہائی ضروری ہیں،مجھے یہ بھی اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت اس مملکت خداداد کے صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ، چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی تھے یہ 2009کی بات ہے ،جمعتہ المبارک کے روز 5جون کو میں نے ان شخصیات کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’کہیں دیر نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘اس خط کا میں عکس ساتھ لگا رہا ہوں(عکس لگانا ہے)
اس میں بھی پاک فوج کے کیپٹن سے نیچے کے رینک کے حوالے سے تنخواہوں میں خاطر اضافے کا مطالبہ کیا تھا اور پھرایسا ہو ا کہ میری جانب سے توجہ دلانے پر جوانوں کو تنخواہوں کی صورت میں خاطر خواہ ریلیف مل گیا تھا جیسا کہ میں نے بتا یا کہ میرا تعلق بھی ایک فوجی خاندان سے ہے ، مجھے اس پر ناز ہے اور میرا جو میڈیا ہاؤس ہے اس میں ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا فرض سرانجام دیا گیا اور دیتے رہیں گے، کبھی بھی وطن پر آنچ آئی تو میں نے کھل کر قلم کا جہاد کیا اور اب تو ماشاء اللہ میرا ٹی وی روز نیوز بھی ہے جس کے پروگرام اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جیسے ہی میرا پروگرام ’’سچی بات‘‘ آن ایئر جاتا ہے تو بھارت میں کھلبلی مچ جاتی ہے ، بھارت اگر کسی میڈیا ہائوس کا دشمن ہے تو میرا میڈیا ہائوس ہے ،ہمارے جوانوں کی جواںمردی نے بھارت کے ہوش اڑا رکھے ہیں ،ان کے خوف سے دشمن لرز جاتا ہے ،ہمیں ضرورت ہے کہ آج ان جوانوں کیلئے تنخواہوں کی صورت میں ایک ایسا اعلان کیا جائے جس سے کم از کم ان کے بنیادی گھریلو اخراجات ،بچوں کی تعلیم اور دیگر زندگی کے جو معاملات ہے وہ احسن طریقے سے چل سکیں ، اگر ہم یہاں پولیس سے پاک فوج کے جوانوں کی تنخواہوں کا موازنہ کریں تو پنجاب پولیس کا ایک سپاہی جوان کے مقابلے میں اچھی تنخواہ لیتا ہے اور ان کی تنخواہوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ، کیا کسی جوان کو ریٹائرڈ ہونے پر کوئی پلاٹ یا اور کوئی ایسی سہولیات ملتی ہیں جو کہ قابل ذکر ہو ں تو ایسا نہیں ہے ، کم از کم ان کو قابل رشک تنخواہ سے نوازنا لازمی ہے جس سے وہ زندگی خوشحال بسر کرسکیں،اس حوالے سے میری جناب صدر مملکت عارف علوی ، وزیر اعظم عمران خان ، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمداور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سیکرٹری دفاع سے گزارش ہے کہ جوانوں کی ان بیش بہا قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے ، جبکہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہماری بھارت سے سخت ٹینشن چل رہی ہے اور وزیر اعظم کہتے ہیںکہ ہماری آئی ایس آئی اور فوج کا ادارہ دنیا میں بہترین ادارہ ہے ،ہمارا فرض تھا ہم نے جوانوں کے حقوق کی خاطر حکام بالا کے سامنے گزارشات پیش کردی ہیں اب متعلقہ حکام کا فرض بنتا ہے کہ اس پر ہمدردانہ غور وخوص کرتے ہوئے احکامات صادر فرمادیں تاکہ ہم ایک دفعہ پھر سرخرو ہوسکیں ،ابھی تقریباً دو سال ہونے کو چلے ہیں کہ جوانوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا،میرا تو فرض ہے میں اس کو نبھاتا رہونگا،فوجی جوان ہمارا وہ سرمایہ ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور جانوں کی قربانیاں دیکر وطن کا نام آسمان کی بلندیوں پر پہنچایا ،ان ہی قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شاعر نے کیا خوب کہا کہ
’’اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے
کی لَبدی ایں وچ بازار کُڑے
اے سودا نقد وی نئیں ملدا
تو لَبدی پھریں اُدھار کُڑے