ایران کے نامور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ قتل

ایران کے نامور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو دارالحکومت تہران کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے محسن فخری زادہ کی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔محسن فخری زادہ کو مغرب، اسرائیل اور ایران کے جلاوطن دشمنوں کی جانب سے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے خفیہ پروگرام کا مشتبہ ماسٹرمائنڈ قرار دیا جاتا تھا، حالانکہ طویل عرصے سے جوہری ہتھیار بنانے کی تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے مسلح افواج کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ‘بدقسمتی سی طبی ٹیم ان کی جان نہیں بچا سکی اور چند لمحے قبل محسن فخری زادہ نے کئی سالوں کی محنت اور جدوجہد کے بعد شہادت کا اعلیٰ مقام حاصل کرلیا’۔

محسن فخری زادہ کو اقوام متحدہ کے ایٹمی واچ ڈاگ اور امریکی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے مربوط پروگرام کا سربراہ سمجھا جاتا تھا.محسن فخری زادہ وہ واحد ایرانی سائنسدان تھے جن کا نام ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے مقصد سے متعلق سوالات کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے 2015 کے ‘حتمی تجزیے’ میں شامل تھا۔ آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ محسن فخری زادہ، نام نہاد عمَد منصوبے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ فوجی جہت کے حوالے سے سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

اسرائیل نے بھی عمد منصوبے کو ایران کا جوہری ہتھیاروں کا خفیہ پروگرام قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے ایران کی جوہری ‘آرکائیو’ تفصیلات کے بڑے حصے تک رسائی حاصل کر لی ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے 2018 میں اپنی ایک تقریر کے دوران آرکائیو سے حاصل ہونے والی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘یہ نام یاد رکھیں، فخری زادہ، جو عمد کے سربراہ ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ عمد کو بند کرنے کے بعد محسن فخری زادہ، ایرانی وزارت دفاع کے ماتحت تنظیم میں ‘خصوصی منصوبوں’ پر کام جاری رکھے ہوئے تھے۔