کرونا وائرس بھارت سے پھیلا، چینی ماہرین نے اہم شواہد تلاش کرلیے

بیجنگ: چین کے طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا وائرس بھارت میں پیدا ہوا اور پھر وہیں سے دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہوا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کے سائنسی اور طبی ماہرین کو تحقیق کے دوران یہ شواہد ملے کہ کرونا وائرس 2019 میں ہونے والے ہیٹ ویو کے دوران بھارت میں پیدا ہوا۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں گرمیوں کے موسم میں انسان اور جانوروں نے ایک ہی پانی پینے کے لیے استعمال کیا جس کی وجہ سے وائرس پھیلنا شروع ہوا۔ چینی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ کرونا وائرس چین میں پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی یہاں سے پھیلنا شروع ہوا۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق اُن کے مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2019 کے دوران موسم گرما میں ہونے والے ہیٹ ویو کے دوران بھارت میں کرونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا۔ ماہرین نے دعویٰ کیا کہ اُن کے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ وائرس بھارت کے بعد بنگلادیش، امریکا، آسٹریلیا، اٹلی روس اور سربیا سمیت دیگر ممالک میں چین سے بھی پہلے پہنچا اور پھر وہاں سے پھیلنا شروع ہوا۔ چائنز اکیڈمی آف سائنسز کے تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں بھارت سے ایک مسافر چین کے شہر ووہان پہنچا جو کرونا سے متاثر تھا، بعد ازاں یہاں وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہوا۔واضح رہے کہ چینی ماہرین نے یہ دعویٰ پہلی بار نہیں کیا بلکہ اس سے قبل بھی ماہرین امریکا اور اٹلی کو وائرس پھیلانے والے ممالک قرار دے چکے ہیں۔