کورونا نے معیشت کو بٹھا دیا، بھارت 1947 کے بعد پہلی مرتبہ کساد بازاری کا شکار

ممبئی: بھارتی معیشت جولائی سے ستمبر کے دوران 7.5 فیصد سکڑنے کے بعد انگریزوں سے اپنی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ کساد بازاری کا شکار ہوگئی۔ اگرچہ بھارتی معیشت میں گزشتہ سہ ماہی میں 29.9 فیصد سکڑنے کے بعد نسبتاً کچھ بہتری آئی ہے مگر پھر بھی اس وقت ایشیا کی تیسری بڑی معیشت کو کورونا کیسز میں مسلسل اضافے کی وجہ سے طلب اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ مسلسل دو سہ ماہیوں تک سکڑنے کے بعد بھارتی معیشت 1947 کے بعد پہلی مرتبہ تکنیکی طور پر کسادبازاری کا شکار ہے۔

تاہم کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران دنیا بھر کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی لیکن ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران امریکا، جاپان اور جرمنی کی معیشتوں میں بہتری آئی جس کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے کہ بھارتی معیشت کا پہیہ بھی اس سہ ماہی میں بہتر راستے کی جانب آئے گا۔ آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ بھارتی معیشت رواں مالی سال کے دوران 10.3 فیصد سکڑے گی جوکہ دنیا کی کسی بھی بڑی معیشت کو پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان ہے اور یہ آزادی کے بعد سے بھارت کے لیے بری ترین کساد بازاری ہے۔

آکسفورڈ اکانومسٹ کی رواں ماہ کے شروع میں جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبا میں بہتری آنے کے بعد بھی بھارتی معیشت انتہائی بری طرح متاثر ہونے والی معیشتوں میں رہے گی اور 2025 تک اس کی سالانہ پیداوار کورونا وبا سے پہلے کے اندازوں کی نسبت 12 فیصد کم رہے گی۔یاد رہے کہ ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے بھارت میں کورونا وبا کے دوران مہینوں طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ملازمتوں سے محروم ہو چکی ہے۔