کروناوائرس: کیا آپ کے دانت بھی جھڑ رہے ہیں؟

کرونا سے صحت یابی کے بعد کئی مریضوں کو سنگین مسائل اور مختلف پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جنہیں طبی ماہرین طویل المعیاد کرونا علامات قرار دیتے ہیں۔ طویل المعیاد کرونا علامات میں مریضوں کا نظام تنفس متاثر ہونا، بلڈ کلٹس اور نفسیاتی مسائل سمیت دیگر سنگین بیماریاں شامل ہیں لیکن اب غیرملکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں نئی لانگ کووڈ علامت کا انکشاف کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کرونا سے صحت یابی کے بعد مریضوں کا جبڑا کمزور ہوکر دانتوں کا جھڑنا ممکنہ طور پر طویل المعیاد کرونا علامت ہے۔

دانتوں کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کروناوائرس متوقع طور پر مسوڑے کے خون کے شریانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ حالیہ دنوں امریکی ریاست نیویارک میں 43 سالہ خاتون نے کرونا سے صحت یابی کے بعد دانت ٹوٹنے کی شکایت کی۔ آئس کریم کھانے کے دوران خاتون کا دانت ٹوٹا حیرت انگیز طور پر مسوڑے میں نہ درد ہوا اور نہ ہی خون بہا۔ قبل ازیں 12 سالہ بچہ کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد اپنے بلوغت کے دانت سے محروم ہوگیا۔

بچے کی ماں کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو 9 ماہ قبل کرونا ہوا لیکن صحت یاب ہونے کے بعد اس کا بلوغت کا دانت ٹوٹ گیا، میں دوسروں کو نصیحت کروں گی کہ کرونا کو سنجیدہ لیں۔ ماہرین نے نئے مسئلے اور کرونا کا اس سے تعلق کے حوالے سے تحقیق شروع کردی ہ