جسٹس اطہر من اللہ کی ’کاون‘ ہاتھی کی کمبوڈیا منتقلی کی تقریب میں شرکت سے معذرت

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ہاتھی ’کاون‘ کی کمبوڈیا منتقلی کی تقریب میں شرکت سے معذرت کرلی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے مرغزار چڑیا گھر کے جانوروں کی منتقلی کے کیس کی سماعت کی۔کاون ہاتھی کی منتقلی کیلئے آسٹریا سے آئے ڈاکٹر امیر خلیل اور جرمن ماہرفرینک گورٹز عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈاکٹر امیر خلیل نے عدالت کو بتایاکہ ہاتھی ’کاون‘ کو 29 نومبر کو کمبوڈیا بھجوایا جارہا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد نےکاون کی دیکھ بھال کیلئے آئے ڈاکٹرز اور ماہرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان بھی جانوروں کی دیکھ بھال اور خیال رکھ سکتا تھا مگر پاکستان نے ایک مثال قائم کی ہے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ جانور پنجروں میں رکھنے کے لیے نہیں بنے، ہم چاہتے ہیں کہ جانوروں کو پنجروں کے بجائے قدرتی ماحول میں رکھا جائے، میرے خیال سے دنیا میں صرف کوسٹا ریکا ہے جس نے چڑیا گھروں پر پابندی لگائی، جانوروں کو ان کے قدرتی ماحول میں رہنا چاہیے۔

اس موقع پر ڈاکٹر امیر خلیل نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ آپ بھی کاون کی منتقلی کے موقع پر آئیں۔ اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کاون کی منتقلی کی تقریب میں شرکت سے معذرت کی اور کہا کہ جج کا کام فیصلہ دینا ہے اور عدالت اس متعلق فیصلہ دے چکی ہے۔خیال رہے کہ ہاتھی کاون کو 29 نومبر کو کمبوڈیا بھجوایا جا رہا ہے، 6 دسمبر کو ریچھوں کو بھی اردن منتقل کیا جائے گا۔