اسٹیک ہولڈرز نے گیس کی قیمتوں میں 123 فیصد اضافے کے مطالبے کی مخالفت کردی

اسلام آباد: گیس کے شارٹ فالز کا سامنا کرنے کے باوجود سوئی نادرن کیس پائپ لائنز لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل) نے گیس کے نرخوں میں 123 فیصد، 7 لاکھ نئے گھریلو کنیکشنز اور میٹر رینٹ میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے جس کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ سیکٹر سمیت اسٹیک ہولڈرز نے سختی سے مخالفت کی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے قائم مقام چیئرمین نورالحق کی صدارت میں ہونے والی عوامی سماعت میں اسٹیک ہولڈرز نے مؤقف اختیار کیا کہ جب گیس کمپنی موجود صارفین کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ایسے میں نیٹ ورک میں توسیع کا کوئی جواز نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی درخواست اس لیے دی گئی کیوں کہ کمپنی کا کاروباری ماڈل اثاثوں پر ملنے والے 17.43 فیصد ریٹرنز پر بنیاد کرتا ہے اور مستقبل کے صارفین کے لیے نظام کی توسیع کی لاگت موجودہ صارفین کے گیس کی قیمتوں سے کی حاصل کی جاتی ہے جنہیں گیس کی قلت اور کم پریشر کا سامنا ہے,پلاننگ کمیشن انرجی کے سابق رکن شاہد ستار نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہوئے اس بات پر حریت کا اظہار کیا کہ ‘ جب ان کے پاس موجودہ صارفین کے لیے گیس موجود نہیں ہے تو وہ پائپ لائنز کے نیٹ ورک میں کیوں توسیع کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس وقت مزید غیر منطقی ہوجاتا ہے جب گیس کمپنی کو رواں مالی سال میں اوگرا نے 4 لاکھ نئے کنیکشنز کی منظوری دی تھی جو ابھی لگے بھی نہیں اور اب وہ مزید کنیکشنز کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی مزید کنیکشنز چاہتی ہے جس کا مطلب گیس کی طلب کافی زیادہ ہے اور کمپنی کو فراہمی بہتر بنانے کی ضرورت ہے بصورت دیگر وہ اپنے اعداد و شمار اور اس کے نتیجے میں گیس کی اصل کھپت تبدیل کرتی رہے گی۔ مزید پڑھیں: ایس این جی پی ایل کو گیس صارفین سے 115 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت

دوسری جانب آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ نے کہا کہ گیس کی قیمتوں پر عوامی سماعت سوالیہ نشان بن چکی ہے کیوں کہ جب بھی کمپنی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست کرتی ہے ریگولیٹر کچھ کمی کے بعد اس کی اجازت دے دیتا ہے,ایس این جی پی ایل نے ماہانہ میٹر رینٹ میں بھی 100 فیصد بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پہلے ہی یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ میٹر رینٹ کو 20 روپے کے بجائے 40 روپے ماہانہ ہونا چاہیے۔