متحدہ عرب امارات میں منی لانڈرنگ میں ملوث پاکستانیوں کے گرد گھیرا تنگ ہوگیا

جدہ.متحدہ عرب امارات میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی، 25 لاکھ کے قریب بھارتی اور 5 لاکھ کے لگ بھگ بنگلہ دیشی موجود ہیں۔ جو ہر سال اربوں درہم کما کر اپنے ممالک کو بھجواتے ہیں۔ تاہم ان تارکین کی بڑی گنتی ایسی ہے جو اپنے وطن رقم بھجوانے کے لیے ٹیکس کی کٹوتی سے بچنے کی خاطر حوالہ یا ہُنڈی کا طریقہ کار اپناتی ہے۔جسے امارات میں قانونی حیثیت حاصل نہیں۔ااماراتی حکومت نے ہُنڈی اور حوالہ کے باعث ملکی معیشت کو ہونے والے معاشی نقصان سے بچنے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ یو اے ای سنٹرل بینک نے مملکت میں حوالہ ہُنڈی کا کاروبار کرنے والے تمام افراد کو خبردار کیا ہے کہ وہ 2 دسمبر 2020ء تک حوالہ بروکرز سسٹم میں اپنی رجسٹریشن کروا کر حوالہ بروکر سرٹیفکیٹ حاصل کر لیں۔

جو لوگ ڈیڈ لائن سے قبل اپنی رجسٹریشن نہیں کروائیں گے انہیں قید کی سزا بھُگتنا ہو گی اور بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کاروبار کی بندش بھی کی جائے گی۔ 2 دسمبر کے بعد حوالہ بروکر سسٹم میں اندراج کروانے والوں کو ہی کاروبارکرنے کی اجازت ہو گی۔ ڈیڈ لائن کے بعدنان رجسٹرڈ آپریٹرز کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو جائے گی۔

سنٹرل بینک کی وارننگ کے مطابق حوالہ آپریٹرز کی تمام تر سرگرمیوں کا اندراج کرانا ضروری ہے،تاکہ اینٹی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس کی نشاندہی ہو سکے اور دہشت گردوں کو رقوم فراہم کرنے والوں کا قلع قمع ہو سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دُنیا بھر میں سالانہ 100 ارب ڈالر سے 300 ارب ڈالر کی رقم غیر قانونی ذرائع سے منتقل کی جاتی ہے۔جس سے دہشت گردوں اور غیر قانونی عناصر کو اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کا موقع ملتا ہے۔امارات سے بھی ہر سال تارکین اربوں درہم اپنے اپنے ممالک بھجواتے ہیں۔ 2019ء میں پاکستان، بھارت، فلپائن، مصر، یو کے اور بنگلہ دیش کے تارکین نے اپنے وطن میں 165 ارب درہم کی ترسیلات زر بھجوائی تھیں۔