امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ بھارتیوں نے بڑی گیم ڈال دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو ”گندا“قراردیا ،تب سے بھارتی عوام کا بہت برا ردعمل ظاہر ہو رہا ہے، بعض ریاستوں میں ہندوﺅں کی جانب سے ”بھگوان ٹرمپ “کی تصاویر جلانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں.

بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اسے مودی سرکار کی سفارتی ناکامی قراردے رہی تو بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی کی سرپرست راشٹرایہ سیوم سیوک سنگھ( آرایس ایس) غصے سے آگ بگولہ نظرآتی ہے اور کئی ریاستوں میں ”شری ٹرمپ“کے انہی پوسٹروں اور تصاویر کو نذرآتش کیا گیا ہے جن کے ماتھے پر تلک لگا کر 24فروری کو ان کی پوجا کی گئی تھی.

ٹرمپ کی جانب سے ان ریمارکس کے بعد ’filthy” اور Howdy Modi ٹاپ ٹیرنڈ بن گیا Howdy Modi کے نام سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے دورے کے دوران ہیوسٹن میں ستمبر 2019 میں ریلی نکالی تھی جس میں 50 ہزار کے قریب لوگوں کی شرکت کا دعوی کیا گیا تھا اس ریلی کے بارے میں بھارتی ذرائع ابلاغ میں ریلی پر کروڑوں ڈالر خرچ کیئے جانے پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے ‘بھارتی اپوزیشن راہنما کپل سیبل نے پوچھا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بھارت کی فضا پر تبصرہ دونوں لیڈروں کے درمیان دوستی کا پھل اورHowdy Modi کا نتیجہ ہے؟

بہت سے لوگوں نے صدر ٹرمپ کے رواں برس فروری میں کیے جانے والے بھارت کے دورے کی جانب اشارہ کیا ہے جب مودی نے اپنے ”اچھے دوست“ کے لیے ایک گرینڈ شو کیا جس میں کرکٹ سٹیڈیم میں گانے گائے گئے رقص ہوا اور بہت بڑا استقبالیہ دیا گیا.