سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکنان ہوشیار ہو جائیں

ریاض(روزنیوز) سعودی عرب میں کورونا سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم لوگوں کی جانب سے بے احتیاطی کے باعث یہ موذی مرض ابھی تک سعودی سرزمین سے رخصت نہیں ہو سکا۔ مملکت میں ایک بار پھر کورونا کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے کورونا کی دوسری لہر آنے کا خدشہ ہے۔ اس حوا لے سے سعودی وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ عوامی جگہوں پر کرونا وائرس سے بچاوٴ کے لیے ماسک پہننے اور سماجی فاصلے جیسی حفاظتی تدابیر اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نپٹا جائے گا۔

وزارت داخلہ نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متعلق حفاظتی پروٹوکولز پر عمل درآمد سے جان بوجھ کر انکار کرنے والوں کو ایک ہزار سعودی ریال بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔بھاری جرمانے کی سزا جن حفاظتی تدابیر کی مخالفت پر دی جائے گی ان میں ماسک نہ پہننا، سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنا اور جسمانی درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاور کرنے کی صورت میں حفاظتی اقدامات پر عمل نہ کرنا شامل ہیں۔

وزارت داخلہ نے ابتدائی طور پر یہ انتباہ مئی میں جاری کیا تھا لیکن کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر اس فیصلے کی از سر نو توثیق کی جا رہی ہے۔سعودی وزارت صحت کے مطابق اگر عوام نے عالمی وبا کی روک تھام سے متعلق حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کیا تو کرونا وائرس کیسز کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہوسکتا ہے۔وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ بتایا کہ اس وقت متعدد ممالک کوویڈ 19 انفیکشن کی دوسری لہر سے گزر رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ سینکڑوں افراد کا حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا نہ ہونا اور ماسک کے استعمال سے گریز ہے۔ٹویٹر پر ایک پیغام میں ڈاکٹر الربیعہ نے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کی اپیل کی۔ ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، کسی ایک فرد کی غلطی سے تمام افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔