مصباح الحق تشکیل نو کی ’’طویل اننگز‘‘ کھیلنے کے خواہاں

لاہور: مصباح الحق تشکیل نو کی ’’طویل اننگز‘‘کھیلنے کے خواہاں ہیں۔مصباح الحق نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ایسوسی ایشنز کے کوچزوسلیکٹرز جانتے ہیں کہ پرفارمنس، میچ جتوانے میں کردار، فیلڈنگ اور فٹنس سمیت کن بنیادوں پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا ہے،ٹیم میں جارحانہ پن آرہا ہے لیکن نوجوان کرکٹرز کو تھوڑا مارجن اور وقت دینا ہوگا، ابھی غلطیاں بھی ہوں گی لیکن ہمیں اچھی بْری کارکردگی کو گوارا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مثال تو دی جاتی ہے لیکن گذشتہ 50سال میں کتنے عظیم کرکٹرز سامنے آئے،کسی بھی ملک میں اس طرح کے بڑے نام 4یا 5ہوتے ہیں،موجودہ ٹیم کو دیکھیں تو شاہین شاہ آفریدی میں جارحیت آرہی ہے مگر تجربے کی بات کریں تو ان کے کیریئر کو زیادہ وقت نہیں ہوا،نسیم شاہ نے تو ابھی 10ٹیسٹ میچ بھی نہیں کھیلے،نوجوان پیسرز نے صلاحیتوں کی جھلک دکھاتے ہوئے ہیٹ ٹرک اور 5وکٹوں سمیت کارنامے سرانجام دیے ہیں لیکن کارکردگی میں تسلسل تجربہ حاصل ہونے پر ہی آئے گا۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ماضی میں وسیم اکرم متعارف ہوئے تو عمران خان جیسا سینئر پہلے سے موجود تھا،اسی طرح سے نوجوانوں کو رہنمائی ملتی رہی، اب تو سارے ہی نوجوان ہیں،زمبابوے کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلیے ان فارم وہاب ریاض اور شاہین آفریدی کے ساتھ محمد حسنین اور محمد موسٰی کو بھی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملے گا،کوئی بھی فارمیٹ ہو جونیئرز کو کھیلا کر تجربہ دلانے سے ہی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

مصباح الحق نے کہا کہ 2سال قبل زاہد محمود کو کوئی جانتا نہیں تھا،ہم نے لیگ اور رسٹ اسپن کے ساتھ چائنا مین بولرز کی تلاش شروع کی تاکہ یاسر شاہ اور شاداب خان کے متبادل تیار کیے جا سکیں،بیٹسمین بھی اس نوعیت کی بولنگ کھیلنا بھولتے جا رہے تھے، ان کو پریکٹس کا موقع دینا بھی پیش نظر تھا،ہم اسامہ میر اور شاہ زیب کو بھی لائے،ٹیموں سے کہا کہ ان کو کھیلنے کے مواقع فراہم کریں تاکہ کارکردگی نکھر کر سامنے آ سکے۔

انہوں نے کہا کہ زاہد محمود کا کنٹرول بہتر مگر عثمان قادر کے پاس ویری ایشن زیادہ ہے، اسی طرح بیٹسمینوں کی صلاحیتیں پرکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا،بنیادی چیزوں پر توجہ ضروری ہے لیکن نیچرل تکنیک تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی، اپنے کیریئر کے دوران اور بطور کوچ بھی میں نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ جس کی جو قوت ہے وہاس کا بھرپور استعمال کرے۔

مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ فیلڈنگ کے معیار میں بہتری لانے کیلیے سخت محنت کی ضرورت ہے،اس شعبے کا فٹنس سے براہ راست تعلق ہے، ایک فٹ کھلاڑی نہ صرف رنز بچاتا بلکہ بیٹنگ کرتے ہوئے بناتا بھی ہے،اس ضمن میں پلیئر کو خود ذمہ داری لینا پڑتی ہے،فکر ہو تو بند کمرے میں بھی ٹریننگ کی جا سکتی ہے، لاک ڈاؤن میں بھی کئی کھلاڑیوں نے فٹنس کا معیار برقرار رکھا۔

انھوں نے کہا کہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں ڈراپ کیچز کی تعداد باعث تشویش ہے،کم روشی کا مسئلہ نہیں تھا،لاک ڈاؤن کے سبب پریکٹس کی کمی اور مسلسل میچز ہونے کے بعد تھکاوٹ وجہ ہوسکتی ہے،بہرحال اس شعبے میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ پی سی بی نے آنکھیں نہیں پھریں،میں نے ہیڈ کوچ کے ساتھ چیف سلیکٹر کی بھی ذمہ داریاں سنبھالیں تو اندازہ تھا کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ اس وقت کی صورتحال میں حکام کا یہی فیصلہ تھا کہ دونوں عہدوں پر کام کروں،میری بات ہوئی توکہا گیا کہ اگر ضرورت ہوئی تو اس حوالے سے دوبارہ سوچ بچار کرلیں گے،یہ آپشن کھلا رکھا گیا تھا۔

زمبابوے سے سیریز کیلیے اسکواڈ منتخب کرنے سے قبل ہی چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کی جلدی کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کو آئندہ فیصلوں کیلیے وقت دینا مناسب ہوتا ہے،اب نئے چیف سلیکٹر کی تقرری کا موقع مل جائے گا، ہوم سیریز کے بعد قومی ٹیم کی دورئہ نیوزی لینڈ سمیت اہم انٹرنیشنل مصروفیات میری منتظر ہیں، سلیکشن کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے نئے عہدیدار کو ڈومیسٹک میچز میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہوگا۔