طیاروں سے ماحول دشمن بخارات کوروکنے کے لیے پاکستانی خاتون انجینئر کی اہم ایجاد

کراچی : پاکستانی خاتون سائنسداں، ڈاکٹر سارہ قریشی نے مسافرجیٹ طیاروں کے لیے ایک ایسا نظام بنایا ہے جو نہ صرف طیاروں کو ماحول دوست بناسکتا ہے بلکہ ہوائی جہاز صنعت کی جانب سے فضا میں شامل ہونے والے مضر اجزا کا دیرینہ مسئلہ بھی حل کرسکتا ہے۔

آج خواتین انجینئروں کا عالمی دن ہے اور اس مناسبت سے ان کی ایجاد پوری دنیا کا ایک بڑا مسئلہ حل کرسکتی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ اس وقت موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ میں جہاں صنعتوں اور کاروں کا کلیدی کردار ہے وہیں دنیا بھر میں اڑان بھرنے والے لاتعداد طیارے بھی فضا کو کثیف کررہے ہیں۔ ڈاکٹر سارہ قریشی کا وضع کردہ نظام ہوائی جہازوں سے خارج ہونے والے آبی بخارات کو فضا میں داخل نہیں ہونے دیتا اور انہیں پانی بنا کر طیارے کے اندر ہی محفوظ رکھتا ہے۔
طیارے کے سرد بخارات اور گلوبل وارمنگ

ہزاروں میٹر کی بلندی پر طیاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں ( ایگزاسٹ) میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ آبی بخارات بھی شامل ہوتے ہیں۔ پانی کے یہ قطرے انتہائی بلندی پر منجمد ہوکر بادل بن جاتے ہیں۔ یہ دس ہزارمیٹر کی بلندی پر رہتے ہیں اور یہ مقام اتنا بلند ہوتا ہے کہ اس کے نیچے تمام موسمیاتی سرگرمیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اولے پڑیں یا قطرے گریں، گرمی کی لہر ہو یا قوسِ قزح، سارا کھیل زمینی فرش سے دوہزار میٹر بلندی تک ہی محدود رہتا ہے۔

ہوائی جہازوں سے بنے مصنوعی بادل

انتہائی بلندی پر شدید سردی اور کم دباؤ کی وجہ سے پانی کے بخارات سفید لکیر(کونٹریل) کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور تھوڑا نیچے آکر یہ مصنوعی بادل بن جاتے ہیں جو بڑی مشکل سے ختم ہوتے ہیں۔ اس طرح روزانہ ہزاروں طیاروں میں ایندھن جلنے سے بخارات دیرپا بادل بناتے ہیں جو زمین کے گرد ایک غلاف کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ پہلے طیارے کا باریک دھواں ایک طویل قطار کو ظاہر کرتا ہے، پھر پھیلتا ہے اور فضا سے اوپر ایک مصنوعی بادل کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت زمینی فضا کا 0.2 فیصد حصہ انہی بادلوں سے ڈھکا ہے اور اب لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بین الاقوامی پروازیں بھی شروع ہوچکی ہیں۔ مجموعی طور پر کمرشل طیاروں سے خارج ہونے والے آبی بخارات، گلوبل وارمنگ کی وجہ بننے والی مشہور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے بھی پانچ گنا زائد مضر ادا کررہے ہیں۔ اس طرح گلوبل وارمنگ میں فضائی صنعت کا حصہ 15 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اگر یہ منجمد قطرے پانی بن بھی جائیں تب بھی یہ عین کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گرین ہاؤس گیس کی تاثیر رکھتے ہیں۔

اس سال کے آغاز میں عالمی کورونا وائرس کے بعد لاک ڈاؤن اور پروازوں کے رکنے سے بھی خود ہماری فضا نے سکون کا سانس لیا ہے۔ اگرچہ اس میں زمینی آلودگی اور سواریوں کی کمی کا بھی ایک کردار تھا لیکن عالمی سطح پر پروازوں میں تعطل سے فضا میں ماحول دشمن آبی بخارات کے بادل بننے کی شرح میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا۔ کئی ماہرین نے اس کے مثبت موسمیاتی اثرات بھی نوٹ کئے ہیں لیکن یہ کیفیت محض عارضی ہے اور جلد یا بدیر ہمارا آسمان دوبارہ جہازوں سے بھرجائے گا۔