کووڈ 19 کا اصل مطلب بتانے پر زرتاج گل پر تنقید

کورونا کی وبا کے دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے کے بعد اس پر دنیا کے متعدد ممالک کے حکمرانوں اور حکومت میں شامل وزرا اور اہم افراد کی جانب سے انوکھی باتیں شروع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

جو اب تک جاری ہے اور کورونا جیسی وبا کے حوالے سے انوکھی اور غلط معلومات پر باتیں کرنے والے سیاستدانوں کو عوام کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔

اس بار وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل کو ان کی جانب سے کورونا کے حوالے سے انوکھی معلومات بتانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

زرتاج گل نے 18 جون کو پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نیوز کے پروگرام (سچ کے ساتھ) میں میزبان سید انوارالحسن کے ساتھ کورونا کے حوالے سے بات کی اور بتایا کہ حکومت نے وبا سے بچنے کی ضمن میں کیا اقدامات اٹھائے۔

زرتاج گل نے کورونا کی وبا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا کورونا کے حوالے سے پہلے دن سے واضح مؤقف ہے اور وہ کہتے رہے ہیں کہ وہ بیماری کی وجہ سے عوام کو غربت میں نہیں دھکیل سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پہلے دن سے ہی عوام کو اپیل کی کہ احتیاطی تدابیر کے تحت ایک دوسرے سے دوری اختیار کریں اور بلاوجہ گھروں سے نہ نکلیں۔

زرتاج گل کے مطابق اگر حکومت مزید ایک ماہ تک سخت لاک ڈاؤن نافذ کرتی ہے تو ملک سے 9 لاکھ چھوٹے کاروبار ختم ہوجائیں گے، اس لیے اب حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو اختیار کیا۔

وفاقی وزیر نے بعد ازاں اپنے بیان پر معذرت بھی کی—فائل فوٹو: فیس بک
انہوں نے بتایا کہ احساس کفالت پروگرام کے تحت 10 سے 12 کروڑ افراد نے درخواستیں دیں، جس کا مطلب لوگ بیماری سے متاثر ہوکر غربت میں چلے گئے ہیں۔

انہوں نے کورونا کی بیماری کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پہلے اس بیماری کو ‘پینڈیمک’ قرار دیا اور اب اسے ‘اینڈیمک’ قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ہمیں اس بیماری کے ساتھ رہنا پڑے گا۔

وفاقی وزیر نے کورونا کے حوالے سے مزید وضاحت کی کہ جب تک ویکسین نہیں آتی تب تک ہمیں احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اس بیماری کے ساتھ رہنا پڑے گا اور یہ کہ کووڈ 19 کا مطلب ہے کہ اس کے 19 پوائنٹس ہیں جو کسی بھی ملک میں کسی بھی طریقے سے نقصان پہچا سکتے ہیں، اس لیے اب وہاں کے لوگوں پر ہے کہ وہ قوت مدافعت کو کیسے پیدا کریں۔‘

زرتاج گل کی جانب سے کووڈ 19 کو دراصل 19 پوائنٹس قرار دینے پر سوشل میڈیا پر ان پر خوب تنقید کی گئی اور 21 جون کو ان کا نام ٹاپ ٹرینڈ رہا۔

سوشل میڈیا پر ان کے کووڈ 19 کے 19 پوائنٹس بتانے کی ویڈیو کلپ وائرل ہوگئی، جس کے بعد انہوں نے ایک وضاحتی ٹوئٹ بھی کی اور اپنی غلطی تسلیم بھی کی۔

زرتاج گل نے اپنی وضاحتی ٹوئٹ میں لکھاکہ وہ روزانہ ٹی وی پر پرچی کے بغیر گھنٹوں بات کرتی ہیں اور وہ کووڈ 19 کے حوالے سے کہنا چاہتی تھی کہ وبا کا اثر، شدت مختلف ممالک میں مختلف ہے۔

زرتاج گل نے لکھا کہ چند لمحوں کی خطا پر یوں ماتم کناں ہونے کے بجائے اپنی جماعتوں کے حشر نشر پر توجہ دیں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو۔

ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ وہ تنقید سے نہیں گھبراتیں بلکہ اس سے اورمظبوط ہوتی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ زرتاج گل کے کسی بیان پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے قبل انہوں نے پاکستان میں اچھے اور بارشوں کے موسم پربات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اچھے موسم کا کریڈٹ خود نہیں لینا چاہتیں بلکہ وہ اچھے موسم کا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان کو دینا چاہتی ہیں۔

زرتاج گل کی جانب سے ملک میں اچھے موسم ہونے کی وجہ وزیر اعظم عمران خان کی حکمرانی کو قرار دینے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کووڈ 19 کے نام میں ’کو‘ کا مطلب ’کورونا‘ ’وی‘ کا مطلب ’وائرس‘ جبکہ ’ڈ‘ کا مطلب disease یعنی بیماری ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے ابتدا میں اس کو ’2019 نیا کورونا وائرس‘ یا ’2019 – این کو‘ کا نام بھی دیا تھا بعد ازاں اسے کووڈ 19 کا نام دیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے اس بیماری یعنی ‘اپیمیڈک’ کو مارچ میں ‘پینڈیمک’ یعنی وبا قرار دیا تھا اور بعد ازاں مئی میں کہا تھا کہ ممکن ہے کہ کورونا ‘اینڈیمک’ بن جائے یعنی یی بیماری کبھی ختم نہ ہو اور کئی سال تک دنیا کو اس کا سامنا کرنا پڑے۔