جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 2 سال میں ایک بچہ بھی چل پڑتا ہے لیکن حکومت مفلوج ہے۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب کے بجٹ میں عوام کے لیے کوئی خوشخبری نہیں، جتنا بجٹ ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھا ہے، اس میں تو آئندہ 20 سالوں میں بھی کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہو گا۔

بجٹ کے بعد ملک میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگیا
71 کھرب 37 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا
انہوں نے کہا کہ ٹڈیوں نے جنوبی پنجاب میں فصلوں کو بہت نقصان پہنچایا، اس کے علاوہ حکومت نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لیے بجٹ نہیں رکھا جب کہ سندھ حکومت نے بھی فراڈ بجٹ پیش کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہماری ترقی کی شرح بری طرح ڈوب گئی، فی کس آمدنی میں کمی ہو رہی ہے اور بجٹ ایک خیالی پلاؤ ہے، 2 سال میں ایک بچہ بھی چل پڑتا ہے لیکن حکومت مفلوج ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ نیب پر تحقیق کی ضرورت ہے کہ اس نے کتنا کمایا ہے؟ نیب کو اپنا کردار غیر جانبدار رکھنا چاہیے تھا۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 21-2020 کا بجٹ 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 71 کھرب 37 ارب روپے ہے جس میں حکومتی آمدنی کا تخمینہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جانب سے محصولات کی صورت میں 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی کی مد میں 1610 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وفاق صوبوں کو 2874 ارب روپے کی ادائیگی کرے گا جبکہ آئندہ مالیسال کیلئے وفاق کی خالص آمدنی کا تخمینہ 3700 ارب روپے لگایا گیا ہے اور کل وفاقی اخراجات کا تخمینہ 7137 ارب روپے لگایا گیا ہے۔