اسکول وین اور پبلک ٹرانسپورٹ میں غیر معیاری سلینڈرزکیخلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے اسکول وین اور پبلک ٹرانسپورٹ میں غیر معیاری سی این جی و ایل پی جی سلینڈرز کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے اسکول وین اور پبلک ٹرانسپورٹ میں غیر معیاری سی این جی اور ایل پی جی سلینڈرز کی تنصیب کے کیس کی سماعت کی جس میں عدالت نے پوليس رپورٹ اور آئی جی سندھ کا کوئی نمائندہ پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کيا۔

یہ بھی پڑھیں این اے 75: (ن) لیگ نے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کی استدعا کردی

جسٹس محمد علی مظہر نے ريمارکس ديے کہ آئی جی سندھ خود پیش ہو کر وضاحت کریں۔ عدالت نے سندھ پولیس کے لیگل افسر پر بھی اظہار برہمی کيا اور کہا کہ آئندہ پیش نہیں ہوئے تو آئی جی کو بلائیں گے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتايا کہ وہیکل قوانین میں جرمانے اور سزاؤں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ یہ کیسا قانون ہے، کوئی ٹریکر نہیں لگانا چاہتا تو آپ 5 ہزار روپے جرمانہ لگائیں گے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ لوگ کیمرے بھی خود لگائیں اور حفاظت بھی خود کریں، ایسا قانون بنائیں جو قابل عمل بھی ہو۔ عدالت نے سی این جی مالکان کو ایچ ڈی آئی پی سرٹیفائیڈ ورکشاپس قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 6 اپريل تک ملتوی کر دی۔