“آئین بدلنا صرف پارلیمان کا اختیار ہے”

اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ آئین بدلنا صرف پارلیمان کا اختیار ہے، مگر حکومت ایک آرڈیننس سے آئین بدلنا چاہتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں پیشی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت خودالیکشن چوری کررہی ہے،عدل کانظام ایک مذاق بن چکا،براڈشیٹ کیس دیکھ لیں،احتساب کا ادارہ خودکرپشن میں ملوث ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد سے بدتمیزی کا دفاع نہیں ہوسکتا، وکلا کے چیمبرز نہیں گرائے جانے چاہئے تھے، افسوسناک واقعے کے بعد اسلام آباد میں عدالتی نظام مفلوج ہے، صرف یہاں نہیں پورے پاکستان کاعدالتی نظام مفلوج لگتا ہے۔

سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے متعلق شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ایوان بالا کے الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ سےجو فیصلہ آئےگا وہ متنازع ہوجائےگا کیونکہ آئین بدلناصرف پارلیمان کا اختیارہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ موجودہ حکومت سے پارلیمانی ارکان سمیت ہرکوئی تنگ ہے،لوگ کرپٹ حکومت کےساتھ نہیں چلناچاہتے،یہ ہارس ٹریڈنگ نہیں ضمیر کی آواز ہے۔

لیگی رہنما نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ڈسکہ میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے،پولیس نے ووٹرز کو ہراساں کیا،الیکشن عملہ غائب ہوا ،پولنگ میں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔