صدارتی ریفرنس: جسٹس فائز کی بینچ تشکیل دینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنادیا گیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس میں بینچ کی تشکیل کا فیصلہ سنا دیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک صفحے پر مشتمل مختصر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بینچ بھی بنا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں محفوظ شدہ فیصلہ 5 ایک کی نسبت سے سنایا۔ چھ رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس منظور احمد ملک نے فیصلے سے اختلاف کیا، جسٹس منظور احمد ملک فیصلے کے حوالے سے اختلافی نوٹ لکھیں گے۔ عدالت نے جسٹس فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں بینچ تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اہلیہ سرینا عیسیٰ سمیت مختلف بار کونسلز نے نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔

نظرثانی درخواستوں میں 6 رکنی لارجر بینچ کے بجائے فل کورٹ بنانے کی استدعا کی گئی تھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے 10 دسمبر 2020 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔