عدالت نے حلیم عادل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

کراچی: انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

پولیس نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو جسمانی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا، اس موقع پر پی ٹی آئی کے کارکنان کے ساتھ وفاقی وزیر فیصل واوڈا بھی عدالت پہنچے جب کہ پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت سے حلیم عادل شیخ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ حلیم عادل کے شریک ملزمان مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری درکار ہے۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی برآمدکرنی ہیں لہٰذا جسمانی ریمانڈ میں استدعا کی جائے۔اس موقع پر حلیم عادل کے وکلا نے اپوزیشن لیڈر کے کمرے سے سانپ نکلنے کے واقعے پر عدالت کو آگاہ کیا۔

حلیم عادل کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی انتقام کا کیس ہے کوئی دہشتگردی کا نہیں لہٰذا دہشتگردی کی دفعات لگانا بدنیتی ہے۔

عدالت نے سرکاری وکیل اور حلیم عادل کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اپوزیشن لیڈر کی جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا مسترد کردی اور حلیم عادل کو 25 فروری تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔عدالت نے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر کیس کا چالان جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔