بھارت : تین دلت لڑکیوں کے ساتھ ظلم کی انتہا، دیکھنے والے رو پڑے

نئی دہلی : بھارت میں نچلی ذات کے ہندوؤں کی زندگی کو اجیرن کردیا گیا، دلت ذات کی تین لڑکیاں کھیت میں بے ہوشی کی حالت میں پائی گئیں بعد ازاں دو لڑکیوں نے اسپتال پہنچنے سے قبل دم توڈ دیا۔

بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے اناؤ میں کے ایک کھیت سے تین لڑکیاں بیہوشی کی حالت میں برآمد ہوئیں جس کے بعد علاقہ میں ہلچل مچ گئی تینوں دلت لڑکیوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔مذکورہ لڑکیوں کو ابتدائی طبی امداد کیلئے قریبی اسپتال لے جایا گیا تاہم اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دو لڑکیاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

ہلاک ہونے والی لڑکیوں کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی، تیسری لڑکی کو علاج کے لیے مرکزی اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ اناؤ تھانے کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ ببورہا گاؤں میں ایک ہی خاندان کی 14، 15 اور16 سال کی تین لڑکیاں سہ پہر تین بجے جانوروں کے لئے چارا لینے گھر سے نکلی تھیں۔

جب کافی دیر شام تک وہ واپس گھر نہیں لوٹیں تو ان کی تلاش شروع کردی گئی۔ اس دوران یہ تینوں لڑکیاں گاؤں کے باہر ایک کھیت سے برآمد ہوئیں اور وہ ایک دوپٹے سے بندھی ہوئی تھیں۔اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوعہ پہنچ کرتینوں لڑکیوں کو نزدیکی کمیونٹی طبی مرکز میں بھیجا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ دو لڑکیاں انتقال کرگئی ہیں۔

پولیس افسر بتایا کہ تیسری لڑکی کی حالت نازک تھی اور اسے کانپور اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ لڑکیوں کو زہر دیا گیا ہے تاہم اصل حقیت پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔