پارٹی کیخلاف ووٹ دینے پر سزا نہیں، ووٹ کی خرید و فروخت پر سزا ہے، اٹارنی جنرل

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ماضی میں غیرقانونی طریقے سے مینڈیٹ چوری ہوا، آصف زرداری نے اب بھی کہا کہ تمام 10 نشستیں جیتیں گے، ان کا بیان سیاسی لیکن مینڈیٹ کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل226 کے تحت وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ کے سوا ہر الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : افسوس پیپلزپارٹی اور ن لیگ میثاقِ جمہوریت معاہدے سے پِھر گئیں، چیف جسٹس

اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 59 اور 226 کو ملا کر پڑھنا ہوگا جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر کوئی سزا نہیں، جس کو پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے کھل کردے، سزا صرف ووٹوں کی خریدوفروخت پر ہوسکتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن میثاق جمہوریت معاہدے سے پھر گئیں ،معاہدہ ووٹ کے خفیہ طریقہ کار کو ختم کرنا تھا لیکن اب سیاسی جماعتیں اس پر عمل نہیں کررہیں۔ معاملے کی مزید سماعت سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔