سعودی حکام کی ویزا اور اقامہ سے متعلق اہم وضاحت

ریاض: سعودی محکمہ پاسپورٹ نے ویزا اور اقامہ کے بارے میں لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اہم وضاحتیں کی ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ آجر اور اجیر کے حوالے سے موجود قوانین کی آگاہی ضروری ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر محکمہ پاسپورٹ سے پوچھا گیا کہ سائق خاص (فیملی ڈرائیور) کا خروج نہائی لگایا تھا مگر گزشتہ برس سفری پابندی کے باعث وہ نہ جا سکا اب دوبارہ خروج نہائی لگوانا چاہتا ہوں، کیا اقامہ ایکسپائر ہوگیا ہے؟

محکمہ پاسپورٹ نے جواب دیا کہ خروج نہائی ویزا لگانے کے بعد 60 دن کی مہلت ہوتی ہے، اس دوران سفر کرنا لازمی ہے اگر سفر نہ کیا جائے تو 60 دن ختم ہونے سے قبل اسے کینسل کروانا ہوگا۔

اس مدت کے دوران خروج نہائی ویزا استعمال نہیں کیا گیا اور مقررہ مدت بھی ختم ہو گئی ہے، اس لیے لازمی ہے کہ جرمانہ جو کہ 1 ہزار ریال ہے، ادا کرنے کے بعد اقامہ تجدید کیا جائے، بعد ازاں خروج نہائی یا خروج وعودہ ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور شخص نے دریافت کیا کہ ان کے اہلخانہ جو مملکت سے باہر گئے ہوئے تھے لیکن کرونا کے باعث عائد سفری پابندی کی وجہ سے اہل خانہ واپس نہیں آسکے، کیا اس کے لیے خروج و عودہ کی مدت میں ابشر اکاونٹ سے توسیع کروائی جا سکتی ہے؟

محکمہ پاسپورٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ غیر ملکیوں کی سہولت کے لیے خروج و عودہ اور اقامہ کی مدت میں توسیع کا اختیار دیا گیا ہے، خروج و عودہ کی مدت میں ابشر اکاؤنٹ سے توسیع کروائی جاسکتی ہے تاہم اس کے لیے مقررہ فیس جمع کروانے کے بعد توسیع کروائیں۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کے بعد حکومت کی جانب سے خصوصی طور پر ابشر اکاؤنٹ کے ذریعے خروج و عودہ اور اقامہ کی مدت میں توسیع کا آپشن فراہم کیا گیا ہے تاہم بعض افراد اس حوالے سے غلطی یہ کرتے ہیں کہ وہ فیس جمع نہیں کرواتے یا کچھ لوگ فیس جمع کروانے کے بعد یہ تصور کر لیتے ہیں کہ ویزے کی مدت میں توسیع ہوگئی۔

فیس جمع کروانے کے بعد لازمی ہے کہ ابشر اکاؤنٹ کے ذریعے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کی کمانڈ دی جائے تاکہ کارروائی مکمل ہو سکے۔ہر دو صورتوں میں پراسس مکمل کرنا لازمی ہے، مطلوبہ دنوں یا ماہ کی فیس جمع کروانے کے بعد جوازات کے ابشر اکاؤنٹ کے ذریعے باقی کارروائی مکمل کرنا بھی لازمی ہے۔