جوہری معاہدہ؛ آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک اعلان

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق ‏صرف اقدامات کو ہی قبول کریں گے نہ کہ مذاکرات کو۔سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران اپنے 2015 کے جوہری ‏معاہدے پر صرف دوسرے فریقین کے مثبت اقدام اور عملی کارروائی کو قبول کرے گا کیونکہ اس ‏سے پہلے بھی وعدے ٹوٹتے دیکھے گئے ہیں۔

خامنہ ای نے کہا کہ ماضی میں ایران نے بہت ساری “اچھی باتیں اور وعدے” سنے جن کی بعد نہ ‏صرف خلاف ورزی کی گئی بلکہ ان کے برعکس عمل ہوا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ وقت عمل کا ہے اگر فریقین کو عملی اقدام اٹھاتے ہیں تو ایران بھی قدم ‏آگے بڑھائے گا مگراسلامی جمہوریہ ایران اب صرف وعدوں اور باتوں پر کوئی اقدام نہیں اٹھائے ‏گا۔

گزشتہ روز ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی دو ٹوک اعلان کیا تھا کہ امریکا عائد کردہ پابندیاں ‏ختم کرتا ہے تو ایران اپنے ‏وعدوں پر عملدرآمد شروع کر دے گا۔ایرانی صدر نے واضح کہا کہ اگر امریکا کی نئی حکومت سیکورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل ‏کرتی ہے اور تہران ‏پر لگائی گئی پابندیاں ختم کرتی ہے تو ایران بھی کیے گئے وعدوں پر دوبارہ ‏عمل شروع کر دے گا۔

صدر نے کہا کہ ایرانی حکومت اگر جوہری معاہدے میں واپس آنا چاہتی ہے تو اسے ایران پر لگائی ‏گئی پابندیاں ‏اٹھانی ہوں گی، مشترکہ جوہری معاہدے کی روشنی میں پابندیاں ختم کی گئیں تو ہم ‏بھی وعوں کو پورا کریں ‏گے۔