جاپان میں سب سے تاخیر سے کورونا ویکسی نیشن کا آغاز

ٹوکیو: کئی ترقی یافتہ ممالک کے برعکس جاپان نے تاخیر کے ساتھ کورونا ویکسین کے ٹیکوں کے لگانے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ جاپان میں فائزر اور بائیوٹیک کی تیار کردہ کی کورونا ویکسین کے ٹیکے لگانے کی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے اور یہ مہم ٹوکیو سمر اولمپکس کے انعقاد سے صرف 6 ماہ قبل شروع کی گئی ہے۔

رواں ماہ کورونا ویکسین سب سے پہلے طبی شعبے سے وابستہ 40 ہزار ملازمین کو لگائی جائے گی جن میں 20 ہزار ڈاکٹرز اور نرسیں بھی شامل ہیں جب کہ طبی شعبے سے وابستہ دیگر 37 لاکھ افراد کو ویکسین مارچ میں لگائی جائے گی۔

یہ خبر بھی پڑھیں : کرونا ویکسین مضر صحت ہونے کا دعویٰ افواہ قرار، سعودی وزارت صحت کی وضاحت

جاپان دنیا میں اُن چند ممالک میں سے ایک ملک ہے جہاں کورونا کا پہلا کیس دسمبر 2019 میں ہی سامنے آگیا تھا اور رواں برس جولائی یا اگست میں اولمپکس گیمز بھی ہونا ہیں اس کے باوجود جاپان نے ویکسی نیشن کے آغاز میں تاخیر سے کام لیا۔

اس حوالے سے حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر فروری کے آخر میں پہلی ویکسین لگائی گئی ہے تو 126 ملین کی آبادی کو ٹیکے لگانے کے لئے 150 دن سے بھی کم وقت مل سکے گا۔ اس کے لئے ایک دن میں 8 لاکھ 70 ہزار انجیکشن درکار ہوں گے اور ہر شخص کو دو ٹیکوں کی ضرورت ہوگی۔

دوسری جانب حکومتی اعلیٰ عہدیدار نے بھی تسلیم کیا کہ ویکسین کی اقسام ایم ایم آر اور ایچ پی وی میں کسی ایک کے انتخاب کی بحث نے تنازعات کو جنم دیا جس سے فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوئی۔ ویکسین کے انتخاب میں “انتہائی محتاط” انداز اپنایا اور رہی سہی کسر بیوروکریس نے پوری کردی۔

واضح رہے کہ جاپان میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 4 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 ہزار ہوگئی ہے جب کہ تازہ لہر میں ہلاک ہونے والوں کی یومیہ تعداد 1 ہزار 500 سے 2 ہزار کے درمیان ہے۔