ہمارے روزمرہ کے استعمال میں موجود وہ اشیا جو جگر کی خرابی کا سبب بن سکتی ہیں

جگر ہمارے جسم کا اہم ترین، دوسرا بڑا اور نظام ہاضمہ میں اہم کردار ادا کرنے والا عضو ہے۔ ہم جو بھی شے کھاتے ہیں، چاہے غذا ہو یا دوا، وہ ہمارے جگر سے گزرتی ہے۔

جگر غذا کو ہضم ہونے، توانائی کے ذخیرے اور زہریلے مواد کو نکالنے کا کام کرتا ہے، تاہم مختلف عادات یا وقت گزرنے کے ساتھ جگر کو مختلف امراض کا سامنا ہوسکتا ہے اور مختلف وائرسز جیسے ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہاں یہ بات جاننی ضروری ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں بظاہر عام سی چیزیں جگر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ چیزیں مندرجہ ذیل ہیں۔

میٹھے کا استعمال

بہت زیادہ میٹھا کھانے کا شوق جگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے جبکہ ذیابیطس اور دیگر امراض کا خطرہ بھی الگ بڑھتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جگر کا کام ہی شکر کو چربی میں بدلنا ہے، اگر خوراک میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوگی تو جگر بہت زیادہ چربی بنانے لگے گا جو کہ جگر کے امراض کا باعث بن جاتا ہے۔

سپلیمنٹس کا استعمال

ایک تحقیق کے مطابق ہربل سپلیمنٹس جگر کے افعال کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے ہیپاٹائٹس اور جگر کی خرابی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، ان سپلیمنٹس کا استعمال کرنا ہو تو پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔

علاوہ ازیں ہمارے جسم کو درکار وٹامن اے تازہ پھلوں اور سبزیوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے، تاہم اگر اس کے لیے سپلیمنٹس کا استعمال کیا جائے تو بھی مشکل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

موٹاپا

جگر میں اضافی چربی کا ذخیرہ جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کا باعث بنتا ہے، اس کے نتیجے میں جگر سوجن کا شکار ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: کھانے پینے کی پابندی کے حوالے سے موٹے افراد کے لیے بڑی خوش خبری

وقت کے ساتھ جگر سخت ہونے لگتا ہے اور ٹشوز میں خراشیں پڑسکتی ہیں، زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کے شکار افراد، درمیانی عمر کے افراد یا ذیابیطس کے مریضوں میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم اس کی روک تھام کے لیے صحت بخش غذا اور ورزش سے مدد لی جاسکتی ہے۔

سافٹ ڈرنکس

ایک تحقیق میں کہا گیا کہ جو لوگ بہت زیادہ میٹھے مشروبات اور سافٹ ڈرنکس کا استعمال کرتے ہیں، ان میں جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

درد کش ادویات

درد کش ادویات کی زیادہ مقدار بھی جگر کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔