دال دلیہ کھائیں اور بیماریوں سے نجات پائیں

ہمارے گھروں میں استعمال ہونے والی دالیں، فائبر، وٹامن اور معدنیات کی وجہ سے صحت کے لئے بہت مفید ہیں, دالوں میں فولیٹ اور میگنیشیم کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق دالوں کے باقاعدہ استعمال سے میگنیشیم کی کمی دور کی جاسکتی ہے۔ دالوں میں موجود فائبر کی وجہ سے خون میں کولیسٹرول کا لیول بھی کم ہوتا ہے۔ ماہر غذائیات ڈاکٹر عائشہ عباس نے دالوں کی اہمیت اور ان کی افادیت سے ناظرین کو آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مونگ مسور اور چنے کی دالیں انتہائی مفید ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کسی بھی مریض کو کھانے میں دی جاسکتی ہیں حتیٰ کہ یورک ایسڈ کے مریض بھی دال استعمال کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ عباس کے مطابق چھوٹے بچوں کو گوشت کی جگہ مونگ مسور کی دال پتلی کرکے کھلانی چاہیے تاکہ ان کی جسمانی غذائیت پوری ہوسکے۔

گوشت کے برعکس دالوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے، ان ننھے ننھے دانوں میں حیاتین کا خزانہ بھرا ہوتا ہے، دالوں میں گوشت اور خون بنانے والے اجزا کثیر مقدار میں ہوتے ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دالوں کے خواص اور غذائی اجزا کے مقابلے میں دیگر اناجوں میں نمکیات اور دوسرے ضروری مادے زیادہ ہوتے ہیں جبکہ مختلف تیزابیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔

دالوں کی کئی اقسام ہیں اور ہر دال کا الگ ذائقہ اور خاصیت ہے۔ مونگ، ماش، چنا، مسور،لوبیا اور سویا بین وغیرہ اپنے اندر ایک منفرد مزہ اور افادیت رکھتی ہیں۔غذائیت کے اعتبار سے گوشت کے بعد پروٹین کی فراہمی کا اہم ذریعہ دالیں ہی ہیں۔اسی لئے انہیں غریبوں کا گوشت بھی کہا جاتا ہے۔