200 سال قبل جنگ میں ہلاک سپاہیوں کی آخری رسومات ادا

ماسکو: ماضی کے معروف فرانسيسی جنرل نپولين کے دور ميں سنہ 1812 ميں لڑی گئی ايک جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے فرانسيسی اور روسی فوجيوں کی آخری رسومات دوبارہ ماسکو میں ادا کی گئیں۔ مغربی روس کے چھوٹے سے شہر ويازما ميں 13 فروری کے روز 126 افراد کی آخری رسومات ادا کی گئيں۔

تابوتوں ميں 120 فرانسيسی اور روسی فوجیوں سميت 3 عورتوں اور 3 نوجوانوں کی باقيات تھيں، ماسکو سے لگ بھگ 200 کلو ميٹر مغرب کی طرف واقع اس شہر ميں منفی 15 ڈگری سينٹی گريڈ درجہ حرارت اور سخت برفباری ميں ملٹری بينڈ نے ترانہ بجايا اور فوجيوں نے پوری عقيدت اور احترام کے ساتھ مرنے والوں کو سپرد خاک کيا۔

تفہن کے بعد انہیں توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔یہ افراد سنہ 1812 کی جنگ کے دوران ہلاک ہوئے تھے اور انيسويں صدی کے ان روسی اور فرانسيسی فوجيوں کو علامتی طور پر دوبارہ سپرد خاک کيا گيا ہے۔

ان تمام افراد کی ہلاکت فرانسيسی فوجی کمانڈر نپولين بونا پارٹ کے ماسکو سے پسپائی کے بعد واپسی کے وقت، 3 نومبر سنہ 1812 کو جنگ ويازما ميں ہوئی تھی۔ يہ اس وقت کی بات ہے جب روس سے نپولين کی فوج کی پسپائی ابھی شروع ہی ہوئی تھی۔

روسی اور فرانسيسی ماہرين آثار قديمہ کو جنگ ويازما ميں ہلاک ہونے والے ان فوجيوں کی باقيات سن 2019 ميں ايک اجتماعی قبر سے ملی تھيں۔ ان ميں سے 120 فوجی تھے، 3 عورتيں زخميوں کو طبی امداد فراہم کرنے والی کارکن تھیں اور 3 نوجوان ڈھول پيٹنے والے تھے۔

ان سب کی دوبارہ تدفين کا مقصد محض علامتی تھا، تعميراتی کام کے دوران جب يہ قبر دريافت ہوئی، تو پہلے سمجھا گيا کہ يہ دوسری عالمی جنگ کے دور کی کوئی اجتماعی قبر ہے۔

تاہم فوجيوں کی جسمانی باقيات اور ان کی وردیوں پر لگے بٹنوں سے پتا چلا کہ ان کا تعلق فرانسيسی فوج کی 30 ویں اور روسی فوج کی 55 ويں انفنٹری سے تھا اور وہ سب ويازما کی جنگ ميں مارے جانے والے افراد تھے۔مذکورہ تقریب میں پرنس يوآخم مورات بھی شریک ہوئے جن کا تعلق نپولين کے سب سے مشہور مارشل کے خاندان سے تھا۔