فیس ماسک کا ایسا فائدہ جو آپ نے پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا

طبی ماہرین عالمی وبا کی روک تھام کے لیے سماجی فاصلہ، ہینڈ سینیٹائزر اور فیس ماسک کے استعمال کو اہم قرار دیتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ماسک کا ایک اور بڑا فائدہ بھی ہے؟۔

جی ہاں، امریکا میں ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس ماسک کے استعمال کے دوران سانس لینے سے جو نمی پیدا ہوتی ہے وہ بھی وائرس کے خلاف ہتھیار ہے، اس سے کوروناوائرس کے علاوہ دیگر نظام تنفس کی بیماریوں سے بھی تحفظ مل سکتی ہے۔ ہر شہری ماسک کا استعمال لازمی کرے۔

یہ تحقیق امریکی نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ڈائیبیٹس اینڈ ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیز میں ہوئی۔ مشاہدے کے مطابق ماسک پہن کر سانس لینے سے آکسیجن میں نمی پیدا ہوتی ہے اور یہ نمی وائرس و دیگر بیماریوں کے خلاف بہت مؤثر ہے، اگر وائرس پھیپھڑوں میں داخل بھی ہوجائے تو شدت کم رہتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سانس کی نالی میں ہائیڈریشن مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے اور نمی والے آکسیجن سے اس کی استعداد مزید بڑھتی ہے، ماسکس سے جسم کے اندر جانے والی ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سانس کی نالی کو زیادہ ہائیڈریشن میسر آتی ہے۔

ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ نمی کی زیادہ سطح فلو جیسی بیماری کے خلاف مؤثر رہی، ممکنہ طور پر ایسے نتائج کورونا کے تناظر میں بھی سامنے آسکتے ہیں، ہوا میں زیادہ نمی سے کسی وائرس کے پھیپھڑوں تک پھیلاؤ محدود ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں امریکا میں وبائی امراض کے معروف ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے انکشاف کیا تھا کہ دو عام ماسک ایک ساتھ پہننے سے این 95 ماسک جیسی حفاظت ملتی ہے اور وبا کا خطرہ بھی کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔

کورونا صورت حال کے دوران ماہرین این 95 ماسک کو سب سے بہترین قرار دیتے ہیں لیکن دو عام ماسک کا استعمال کیا جائے تو یہ وبا کو روکنے کے لیے این نائنٹی فائیو جیسی حفاظت فراہم کرتے ہیں اور یہ عمل مہلک وائرس کے خلاف زیادہ مؤثر بھی ہوجاتا ہے۔ فیس ماسک کا مقصد ہوا میں موجود وائرل ذرات کی روک تھام کرنا ہے۔