یمن میں رواں سال لاکھوں بچوں کے بھوک سے مرنے کا خدشہ

یمن میں انسانی بحران وقت کے ساتھ ساتھ سنگین ہوگیا جبکہ رواں سال بھوک سے لاکھوں بچوں کی موت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ملک یمن میں خانہ جنگی کے باعث انسانی بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور رواں سال لاکھوں بچوں کے غذائی قلت کا شکار ہونے aکا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال 5 سال سےکم عمر کم ازکم 4 لاکھ بچوں کے بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ یمن میں جنگ اور کوروناوائرس کے سبب خوفناک غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ہورہاہے، رواں سال 5سال سےکم عمربچوں میں شدیدغذائی قلت کی شرح میں22 فیصداضافہ ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال 5 سال سے کم عمر 23 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے انتباہ جاری کرتےہوئے کہاہے کہ یمن میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے ملنے والی امداد ناکافی ہے، غذائی قلت سے نمٹنےکیلئے درکار 3.4 ارب ڈالرمیں سے صرف 1.9 ارب ڈالر ملے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق امدادی فنڈز نہ ملنے کے سبب غذائی قلت سے نمٹنےکے پروگرامز محدود کرنے یا بندکرنا پڑ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ نے یمن میں انسانی بحران کو دنیا کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے جہاں جنگ کی وجہ سے 80 فیصدآبادی بری طرح متاثر ہے۔واضح رہے کہ یمن میں خانہ جنگی کا آغاز 2014 میں اس وقت ہوا جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمان پہنچنے والے مسافروں کیلئے نئے قوائد وضوابط

حوثی باغیوں کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کو جواز بنا کر سعودی عرب نے یمن میں فضائی کارروائیاں شروع کردیں۔یمن میں ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس تنازع کی وجہ سے لاکھوں افراد قحط سالی شکار ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس تنازع کو دنیا کا بدترین انسانی المیہ قرار دیا ہے کیونکہ یمن میں لاکھوں افراد خوراک اور طبی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں اور یہ لڑائی ملک کو قحط کے دہانے پر لے آئی ہے۔