نیند کے دوران دم گھنٹے کی شکایت…..یہ کونسی بیماری ہے؟

نیند کے دوران دم گھنٹے کی شکایت درحیقیقت سلیپ اپنیا نامی بیماری کی نشانی ہے جس میں آکسیجن کم ہوجاتی ہے, اگر آپ کو بھی نیند میں دم گھٹنے کی شکایت ہے تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ بیماری فالج کے خدشات بڑھا دیتی ہے۔

اپنیا ایسی بیماری ہے جس سے اکثر لوگ واقف ہی نہیں ہیں اور نہ ابھی تک اس بیماری کوئی علاج دریافت ہوسکا ہے لیکن ڈاکٹروں کی جانب سے اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کےلیے ورزش کرائی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں سلیپ اپنیا نامی بیماری کے 1 ارب کے قریب لوگ اس خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں جس میں گلے کے بٹھے کمزور ہوجاتے ہیں اور جب مریض سونے لیٹتا ہے تو اس سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سلیپ اپنیا نامی بیماری دل پر اثرات ڈالتی ہے جس کے نتیجے میں فالج کے خدشات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پانپنا اور تیزی سے سانس لینا بھی سلیپ اپنیا کے خدشات بڑھا دیتا ہے۔

ڈاکٹر محمد حماد (ای این ٹی) نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیماری بچوں اور بڑوں دونوں میں پائی جاتی ہے لیکن زیادہ شکار اس بیماری کا بڑی عمر کے افراد ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد حماد کا کہنا تھا کہ یہ بیماری سول فورسز کے افراد میں زیادہ پائی جاتی ہے کیونکہ ان کی نوکری ایسی ہوتی ہے، جس میں اسے دھول مٹی میں رہنا پڑتا ہے، گولیوں اور مجرموں سے درمیان رہنا پڑتا ہے جس کا اثر ان کے دماغ پر ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سلیپ اپنیا کی کچھ نشانیاں ہیں، جس میں پہلی صبح اٹھ کر پانی پینا، دوسری سارا دن تھکاوٹ کا شکار رہنااور ہر وقت نیند میں رہنا کیونکہ رات کو صحیح سے سو نہیں پاتے جبکہ یاداشت کا کمزور ہونا ہے۔

ڈاکٹر حماد نے بتایا کہ سلیپ اپنیا سے بچنے کےلیے ورزش کرائی جاتی ہے، جس میں پانچ مرتبہ ناک سے سانس لی جاتی ہے اور پھر ناک سے ہی باہر نکالی جاتی ہے، اسکے بعد زبان کو دانتوں میں پکڑ کر اپنا لہاب دہن اندر نگلا جاتا ہے۔