امریکا نے میانمار کی فوجی قیادت پر پابندیاں عائد کردیں

امریکا نے میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد اس میں ملوث عسکری قیادت پر پابندیاں عائد کردیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے جس میں میانمار میں فوجی بغاوت کرنے والی فوجی قیادت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت عسکری حکام، ان کے اہلخانہ اور ان سے وابستہ کاروباروں کے خلاف اقدمات کیے جائیں گی۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت میانمار حکومت کے لیے مختص ایک ارب ڈالرز کے فنڈ تک فوج کی رسائی روکنے کے لیے بھی اقدامات کررہی ہے۔

امریکی حکومت نے میانمار کی فوجی قیادت پر پابندی فوجی بغاوت کے بعد جاری احتجاج میں خاتون کی ہلاکت کے بعد لگائی ہے۔امریکی صدر جوبائیڈن نے میانمار میں فوجی بغاوت کے فوری خاتمے اور آنگ سان سوچی سمیت دیگر رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ فوجی بغاوت کے خلاف برما کے لوگ آواز اٹھارہے ہیں جس کو دنیا نے سنا اور دیکھ رہی ہے جب کہ اس سلسلے میں امریکا کو کسی مزید ایکشن کی ضرورت پڑی تو وہ بھی لیا جائے گا۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ رواں ہفتے پابندیوں کے پہلے مرحلے میں اپنے اہداف کی شناخت کرے گی جب کہ میانمار کے کچھ فوجی حکام کو پہلے ہی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کے باعث بلیک لسٹ کیا جاچکا ہے۔میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف شدید احتجاج کیا جارہا ہے جس میں اساتذہ اور طلبہ سمیت مختلف شعبہ زندگی کے لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہےجب کہ گزشتہ روز ہونے والے احتجاج میں فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک ہوئی۔