سلمان خان نےعدالت میں جعلی حلف نامہ جمع کرانے پر معافی مانگ لی

بالی وڈ اداکار سلمان خان نے کالے ہرن کے غیرقانونی شکار کے مقدمے میں عدالت میں جعلی حلف نامہ جمع کروانے پر معافی مانگ لی۔ راجستھان میں 2 نایاب کالے ہرنوں کے شکار کے کیس میں سلمان خان جودھ پور سیشن کورٹ میں بذریعہ ویڈیو کانفرنس پیش ہوئے۔

اس دوران سلمان خان نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں 2003 میں غلطی سے جعلی حلف نامہ پیش کرنے پر معذرت کی۔ سلمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ 8 اگست 2003 کو جمع کرایا گیا حلف نامہ غلطی سے دیا گیا تھا کیونکہ سلمان بھول چکے تھےکہ ان کا اسلحے کا لائسنس تجدید کے لیے متعلقہ ادارے میں گیا ہوا ہے، اس لیے مصروفیت کے باعث حلف نامے میں کہہ دیا کہ لائسنس تو عدالت میں ہی گم گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ 11فروری کو جاری کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ 1998 میں راجستھان میں فلم کی شوٹنگ کے دوران 2 کالے نایاب چنکارا ہرنوں کے شکار کےا لزام میں سلمان کو گرفتار کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر ان کے خلاف آرمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں 2003 میں عدالت نے سلمان سے اسلحہ لائسنس طلب کیا تھا جس پر انہوں نے حلف نامے میں کہا تھا کہ وہ ان سے کھو گیا ہے، اس سلسلے میں سلمان نے ممبئی کے ایک تھانے میں لائسنس گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی۔

2018 میں ایک عدالت نے ہرنوں کے غیر قانونی شکار کے جرم میں سلمان کو 5 سال قید کی سزا سنائی تھی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا تاہم وہ 2 راتیں گزارنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوگئے تھے