بھارتی فوج نے شہید بیٹے کی لاش مانگنے والے باپ پر ہی دہشت گردی کا مقدمہ بنا دیا

سری نگر: قابض بھارتی فوج نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے بیٹے کی لاش مانگنے والے مجبور و بے کس باپ پر دہشت گردی کے مقدمے بنا دیئے۔

دسمبر کے آخری ہفتے میں جعلی مقابلے میں تین نوجوانوں کو شہید کرکے قابض بھارتی فوج نے لاشوں کو نامعلوم مقام پر دفنا دیا تھا جس کے بعد ورثا اپنے پیاروں کی لاشوں کے لیے دہائیاں دے رہے ہیں لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ انسانی حقوق اور جذبہ ہمدردی سے عاری مودی سرکار نے بیٹے کی لاش دینے کے بجائے الٹا باپ پر ہی دہشت گردی کے مقدمات بنادیئے۔

اس سے قبل قابض بھارتی فوج نے مشاتق وانی کو ان کے بیٹے اطہر مشتاق وانی کی قبر دکھائی تھی تاہم جب میت کی منتقلی کے لیے لواحقین نے قبر کھودی تو وہ خالی تھی جس کے بعد سے والد مشتاق وانی اسی خالی قبر پر فاتحہ پڑھتے آئے ہیں اور اپنے بیٹے کی لاش کے لیے کئی بار مظاہرے کیے جس پر ان کے خلاف مقدمات بنادیئے گئے ہیں۔

اس حوالے سے بھارتی پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ مشتاق احمد اور اس کے دو بھائیوں سمیت دیگر 6 افراد پر بھارت کے انسداد دہشت گردی کے’’غیر قانونی سرگرمیاں کی روک تھام ایکٹ‘‘ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں تاہم ابھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت 5 سال تک قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

اپریل 2020 سے مودی سرکار نے پنی نئی پالیسی کے تحت 150 سے زائد نوجوانوں کو شہید کرکے لاشوں کو آبائی گاؤں سے 115 کلو میٹر (70 میل) دور دراز قبرستان میں دفن کردیا تھا جب کہ ورثا کا کہنا تھا کہ ان کے پیاروں کو نماز جنازہ کے بغیر ہی دفنا دیا گیا تھا۔ بھارتی فوج کے اس سفاکانہ عمل پر مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ مظاہرے جاری ہیں۔