وکلاء کے اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا بولنے کے تیسرے روز عدالتیں کھل گئیں

وکلا ءکے اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا بولنے کے تیسرے روز وفاقی دارالحکومت میں عدالتیں کھل گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت کے باہر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، اور رینجرز اور پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

ہائیکورٹ کی تمام عدالتوں کے باہر بھی پولیس اور رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں سپریم کورٹ: سزائے موت کے ذہنی معذور قیدیوں کو پھانسی دینے کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں صرف متعلقہ افراد کو مکمل چیکنگ کے بعد داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی جانب سے آج مکمل ہڑتال کی کال دی گئی ہے اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جو وکیل عدالت میں پیش ہوا اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل مشتعل وکلاء نے چیمبر گرائے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے بلاک پر دھاوا بول دیا تھا۔ احتجاج کے دوران وکلاء آپے سے باہر آ گئے تھے اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف نعرے بازی بھی کی تھی جس کے باعث جسٹس اطہر من اللہ اپنے بلاک میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔