سپریم کورٹ: سزائے موت کے ذہنی معذور قیدیوں کو پھانسی دینے کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ

لاہور: سپریم کورٹ رجسٹری نے سزائے موت کے ذہنی معذور قیدیوں کو پھانسی دینے کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے جسٹس منظور احمد ملک نے 5 رکنی بینچ کا فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے امداد علی اور کنیزاں بی بی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا اور دونوں مجرموں کو پنجاب کے ذہنی امراض اسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ایک مجرم غلام عباس کی سزائے موت کے خلاف اپیل صدر مملکت کو دوبارہ بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر سےتوقع ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلےکی روشنی میں رحم کی اپیل پرفیصلہ کریں گے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو فیصلے کی روشنی میں قوانین میں ترامیم کرنے اور ذہنی مریض قیدیوں سے متعلق جیل رولز میں بھی ترامیم کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہےکہ وفاق اور صوبے ذہنی مریض قیدیوں کے لیے بہترین فرانزک ہیلتھ سہولیات شروع کریں، سزائے موت کے قیدیوں کی ذہنی کیفیت کی جانچ کے لیے ماہر نفسیات کابورڈ بنایا جائے، میڈیکل بورڈ ذہنی مریض قیدیوں کو سزائےموت نہ دینے کی وجوہات کا تعین کرے گا۔

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہےکہ وفاق اور صوبے زیرٹرائل ذہنی امراض میں مبتلا ملزمان کی بھی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ بنائیں، جیل حکام، سماجی ورکرز، پولیس اور ماہر نفسیات کے تربیتی پروگرام شروع کریں جب کہ صوبائی اور وفاقی جوڈیشل اکیڈمیز میں ججز، وکلا اور پراسیکیوٹرز کے لیے بھی تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں۔ عدالت نے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے فیصلے کی کاپی وفاقی اور صوبائی حکومت کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہےکہ امداد علی، کنیزاں بی بی اور غلام عباس کو قتل کے مقدمات میں موت کی سزائیں سنائی گئیں، امداد علی کو سال 2002، کنیزاں بی بی کو 1991 اور غلام عباس کو سال 2004 میں سزائیں سنائی گئی تھیں۔ کمالیہ کی کنیزاں بی بی کو 6 افراد کے قتل اور وہاڑی کے امداد علی پر بوریوالہ میں حافظ عبداللہ کو قتل کرنے کا الزام ہے۔