نیازی صاحب دنیا صحافت میں آپ نے ہمیشہ حق اور سچ کا پرچم بلند کیا ، عارف چوہدری

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)ماہر قانون عارف چوہدری نے روز نیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں کچہری کیلئے کوئی جگہ ہی نہیں ، وکلاء کے کیبن کئی سالوں سے بنے ہوئے تھے، نوٹس کے بغیر ان کو گرا دیا گیا، اس میں وکلاء کا سامان اور فرنیچر بھی تباہ ہو گیا ، ایسے میں صورتحال سنھبالنے کی ضرورت تھی، لیکن حالات مزید خرابی کی طرف جاتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں ، ملک میں ناجائز قبضے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ناجائز قبضہ ہو تو اسے چھڑانے کیلئے 48گھنٹے پہلے اطلاع دی جاتی ہے تاکہ سامان وغیرہ نکال لیا جائے مگر یہ آپریشن بغیر اطلاع کے کیا ، وکلاء کی ایسو سی جب سرٹیفکیٹ دیتی ہے تو اس کے بعد وکلاء اپنے کیبن بناتے ہیں ، ہائی کورٹ کی ڈسٹرکٹ کورٹ کی جگہ ہے یہاں پر وکلاء کا کمپلیکس بننا تھا، بہتر یہ تھا کہ وکلاء کے کیبن کا متبادل نظام کرنے کے بعد آپریشن کیا جاتا ،کچہری بھی غیر قانونی ہے ، یہ ایف ایٹ کا کمرشل ایریا ہے ، انہوں نے کہا کہ جو بھی ناجائز قبضے ہو رہے ہیں ان میں ادارے ملوث ہیں ، یہ تجاوزات کو روکتے ہی نہیں ، سی ڈی اے کے بعض لوگ اپنے بندے قبضوں کی جگہ بیٹھاتے ہیں ، جب قبضہ مکمل ہو جاتا ہے پھر کہتے ہیں کہ یہاں سے اٹھایا جائے ، گرین بیلٹ تک قبضے کیے گئے ہیں ،یہ قبضے نہیں ہونے چاہئیں ، سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے ، سی ڈی اے متحرک ہو تو پھر غیر قانونی کام نہیں ہونگے ، نیازی صاحب آپ قبضہ مافیا کیخلاف آواز اٹھاتے ہیں نشاندہی کرتے ہیں ، آپ کے وزیر اعظم سے بھی انتہائی قریبی تعلقات مگر آپ نے ان کے سامنے بھی ہمیشہ کلمہ حق کا پرچم بلند کیا ، اسی وجہ سے دنیا صحافت میں آپ کا قد دیگر صحافیوں سے بلند ہے، انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے والوں نے اپنے لئے بیس فیصد کوٹہ رکھا میں نے اس کی مخالفت کی ، گرین بیلٹ کو کمرشل میں تبدیل کیا ، اس کے پلاٹ بنائے اور پھر فروخت کیے گئے ، یہ سب کچھ باقاعدہ انڈر سٹینڈنگ کے تحت ہوتا ہے ۔