یہ سیٹ چیئرمین نیب کے ہم پلہ ہوتی ہے ، حیران ہوں یہ اب تک خالی کیوں ہے

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی پی جی اے کی سیٹ خالی ہونا حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، یہ سیٹ تو چیئرمین نیب کے ہم پلہ ہوتی ہے ، یہ علم کا فقدان ہے ، حیران ہوں کہ سیٹ خالی کیوں ہے ، اس حوالے سے فیصلہ ہونا لمحہ فکریہ ہے ، نیب کے کئی لوگوں کو اس حوالے سے علم ہی نہیں تھا، چیئرمین نیب نے اس حوالے سے سمری بھیجی جو وزارت قانون میں ہے ، سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی جس کا جواب نہ ملا، 10دنوں سے پی جی اے نہیں ہے اور معاملات چل رہے ہیں ، اگر ایس او پی نہیں مانتے تو جواب دے دیتے ، سوچنے کی بات ہے کہ آرمی چیف نے جانا ہوتا ہے تو پہلے سے نام چاہتے ہیں ، یہ حکومت اور نطام کے فلاپ ہونے کا ثبوت ہے کہ پہلے سے نام کیوں نہیں گئے ، جو سمری بھیجی گئی ہے اگر ناقابل قبول ہے تو واپس کرتے اس حوالے سے کوئی نہیں جواب ملا، سیکرٹری داخلہ کا تبادلہ ہوئے بھی تین دن ہو گئے ہیں ، بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے پیچھے پڑے ہیں سسٹم پر توجہ نہیں دیتے ، اپوزیشن کو کسی بات کا پتہ نہیں ، حتیٰ کہ حکومت تک لاعلم ہے ، عمران خان نے جواچھے کام کیے اس کا بھی علم نہیں ، عمران خان خود یا کسی کہ ترجمان نے بھی ان کاموں بارے عوام کو آگاہ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ اوپن بیلٹ میں بھی پیسوں کی چہل پہل ہو سکتی ہے ، یہ درست ہے اس میں پیسہ زیادہ لگے گا، اوپن ہینڈ میں زیادہ پیسہ لگے گا، برسر اقتدار کے خلاف ہاتھ کھڑا بڑا مشکل ہوتا ہے ، پیسے لینے والوں کو آپ نہیں روک سکتے ، وہ اوپن میں بھی اور سیکریٹ بیلٹ میں بھی پیسے لے جائیں گے ، عمران خان کی باتیں کمال کی ہیں ، اس کی باتیں ہوتی تو اچھی ہیں اس کی ٹیم نہیں ہے ، ٹیم بنانے میں کوئی مینوفیکچر نگ فالٹ ہے ، حکومت میں اچھے کام بھی ہو رہے ہیں ، مایوسی کی ضرورت نہیں ، نیب میں پی جی اے کی پوسٹ خالی ہے کیا حامد میر یا شبلی فراز کو پتہ ہے ، شبلی فراز کے بیان کہاں فالٹ کرے ، پی ڈی ایم میں بہت دھڑے بندی ہے ، اتنی دھڑے بندی ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں نہیں ، عمران خان کام کرنا چاہتے ہیں ، مگر ہم ان کی قدر نہیں کرتے ، سب کی اپنی اپنی لائن ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کہ اگر وکلاء کے چیمبر گرانے کانوٹس جو ہوا اچھا نہیں ہوا ، قانون کے محافظوں اور ایسا کرنا اچھا نہیں لگتا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اداروں کو سیاست میں شامل نہیں کرنا چاہتے ، پیپلز پارٹی کی بھی خیر ہے کہ وہ اداروں کے بڑے قریب جا رہے ہیں ، اس نے بلاول بڑے خوش ہیں ، پی ڈی ایم نے وزارت عظمیٰ پاکستان کی مہر لگا رکھی ہے ، زردار میں سیاست میں پی ایچ ڈی ہیں ، تاہم وزیر اعظم کے وقت پورا کرنا ہے ، حکومت اپنے مقاصد پر پہنچے گی ، اس وقت تعمیرات میں عمران خان نے جو سہولیات دی ہیں مگر نتاءج برآمد نہیں ہو رہے شاید کرونا کی وجہ ہے ، مگر سیاسی سرپرستی میں غیر قانونی کام بہت ہوتے ہیں ، جن کو کنٹرول کرنا مشکل ہے ، اب بھی سیاسی سرپرستی میں جو ہو رہا ہے عوام کو سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، سیاسی سرپرستی میں قبضے ہو رہے ہیں ، قبضے صرف ن لیگ یا پی پی دور میں نہیں ہوئے ، اب بھی ہو رہے ہیں ، تو زمین کا ٹاءٹل کلیئر ہونا چاہئے ، اوورسیز کی جائیدادوں پر قبضے ہو جاتے ہیں ، عمران خان نے ایسے اچھے کام کیے ان کے بارے میں ان کے ترجمان بھی لاعلم ہیں ، لیکن مسائل بہت گھمبیر ہیں ، یا آپ کاروبار کر لیں یا آپ پاور میں آجائیں ، موجودہ حکومتی سیاستدان بزنس کر رہے ہیں ، ان کے ذاتی مفادات ہیں ، بزنس مین کیونکر سیاست کرے گا حکومت کی سمت درست نہیں ، انہوں نے کہا کہ زون ٹو میں دیکھ لیں تمام غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں ، ہمارے یہاں غیر قانون کام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ان کو پیسہ ملتا ہے ، انہوں نے کہا کہ خامیوں کے حوالے سے روز ہی جو کہتا ہوں حکومت اس جانب توجہ دے ، تعمیرا کے حوالے سے بہت احسن فیصلے ہوئے ہیں ، سہولیات ملی ہیں لیکن اک کا فائدہ کیا ہے ، وزیر اعظم ان مسائل کے حوالے سے آگاہی کرانا بہت ضروری ہے ، عقیل کریم ڈھیڈی اور محسن شیخانی کو چاہئے وہ وزیر اعظم سے ملکر حقیقت سے آگاہی کریں ، عمران خان کو اپنی ٹیم پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔