آرڈیننس جاری کرنے پر صدر مملکت کے خلاف مقدمہ ہونا چاہیے: اختر مینگل

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ممکن نہیں ہے جب کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران آرڈیننس جاری کر نے پر صدر مملکت کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان میں کورونا سے مزید 59 افراد انتقال کر گئے

اپنے ایک بیان میں اختر مینگل نے کہا کہ حکومت صرف آرڈیننس اور آرڈیننس فیکٹری والوں کے سہارے چل رہی ہے، آئین میں ترمیم صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نہیں کی جاسکتی، حکومت سینیٹ کے انتخابات خفیہ کی بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانا چاہتی ہے اور یہ آئینی ترمیم سے ممکن ہے، اس مسئلے پر حکومت نے سپریم کور ٹ سے بھی رائے طلب کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔

انہوں نےکہا کہ اوپن بیلٹ صرف اور صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران صدارتی آرڈیننس جاری کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، صدر اگر ایسے آرڈیننس جاری کر یں تو ان کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کے حوالے سے مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ اختر مینگل کا کہناتھا کہ صدر مملکت کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، اپوزیشن کو سنجیدگی سے صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔