قانون محنت: غیر ملکی ملازمین کےلیے بڑی خوشخبری

ریاض : سعودی حکام نے غیر ملکی ملازمین کو سہولت دینے کےلیے قانون محنت میں بڑی تبدیلی کردی۔سعودی عرب کی لیبر دنیا بھر میں پرکشش سمجھی جاتی ہے جس کے لیبر قوانین بھی حکومت نے واضح کررکھے ہیں تاکہ آجر اور اجیر کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے اور دونوں کے حقوق بھی سلب نہ ہوں۔

قوانین کی واضاحت کے باوجود چھٹی پر جاکر واپس نہ لوٹنے والے غیر ملکی ملازمین حکام سے سوال کررہے کیا اب وہ نئے ویزے پر سعودی عرب جاسکتے ہیں؟ اور کیا انہیں اپنی مرضی سے معاہدے کا اختیار ہوگا یا نہیں؟ سعودی غیر ملکی کارکنوں کے لیے قانون محنت میں تبدیلی ہو رہے ہیں جن کا آغاز 15 مارچ 2021 سے کیا جائے گا۔

مجوزہ قوانین کے حوالے سے بعض اہم نکات مرتب کیے جاچکے ہیں جن میں بنیادی نکتہ ورک ایگریمنٹ کا ہوگا جس کے تحت فنی تربیت یافتہ ملازمین اپنے پیشے کے اعتبار سے متعلقہ کمپنی یا ادارے سے ڈیمانڈ حاصل کرے گا جس پر اسکا معاہدہ مرتب کیا جاسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاپرواہی برتی تو خطرہ بڑھ جائے گا، سعودی وزیر صحت کا اہم بیان

سعودی میڈیا میں وزارت افرادی قوت کے حوالے سے نئے قانون سے متعلق جو تفصیلات شائع ہوئی ہیں اس کے مطابق نئے قانون کے تحت غیر ملکی کارکنوں کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی جگہ ملازمت اختیار کرسکتے ہیں تاہم اس حوالے سے یکساں معاہدہ ملازمت مرتب کیا جائے گا جس میں آجر و اجیر کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔