کورونا سے صحت یاب مریضوں کے لیے انتباہ!

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کوروناوائرس کی نئی قسم وبا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو حالیہ مہینوں دوبارہ کووڈ19 کا شکار کرسکتی ہے۔نئی سائنسی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوبی افریقا میں پائی جانے والی کوروناوائرس کی نئی قسم وبا سے صحت یاب مریضوں کو حالیہ مہینوں دوبارہ وائرس کا شکار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جنوبی افریقا میں ویکسی نیشن کے ٹرائل کے دوران وبا کے صحت یاب مریضوں میں نئی قسم دریافت ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق کورونا وائرس میں ہونے والی میوٹیشن سے صحت یاب مریضوں کو تحفظ نہیں ہے۔ اس ریسرچ کے ابتدائی نتائج ویکسی نیشن کے ٹرائل پر مبنی ہیں جو ابھی کسی جریدے میں شایع بھی نہیں ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشاہدے سے پتا چلا کہ قدرتی بیماری سے حاصل ہونے والی مدافعت میوٹیشن کے عمل سے گزرنے والے وائرس کے خلاف مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتی، البتہ یہ کتنا خطرناک ہے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا، اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس نئی دریافت نے سائنس دانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔

لیکن بعض سائنس دانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی قسم سے دوبارہ بریضوں کے بیمار ہونے کی شرح زیادہ نہیں ہے۔ تحقیق میں صحت یاب افراد بھی اسی شرح سے وائرس کی نئی قسم کا شکار ہوئے جو پہلی مرتبہ ہوتے ہیں، یہ حیران کن امر ہے کیوں کہ خیال کیا جاتا ہے کہ وائرس کو شکست دینے والوں میں اینٹی باڈیز انہیں تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق ویکسین کی 2 خوراکوں سے اس نئی قسم کے خلاف تحفظ ملتا ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ برطانیہ میں کوروناوائرس نئی قسم مزید میوٹیشن کے عمل سے گزر رہی ہے جو پریشان کن معاملہ ہے۔ وائرس کی نئی قسم میں ‘میوٹیشن ای 484’ کا عمل میں ہورہا ہے، جینیات کی یہ تبدیلی اس سے قبل جنوبی افریقا اور برازیل میں ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید جینیاتی تبدیلیاں ویکسین اور علاج کے طریقہ کار پر اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔