عمران خان کی بطور “کھلاڑی ” مقبولیت دنیا بھر میں برقرار

آئی سی سی کی پولنگ میں بہترین کپتان کی فہرست میں عمران خان کی جیت بھارتیوں کو ہضم نہ ہوئی۔منگل کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ”پیس سیٹر“ کے عنوان سے ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستان کے سابق کپتان اور موجودہ وزیراعظم عمران خان، بھارتی ویرات کوہلی، جنوبی افریقی اے بی ڈی ویلیئرز اور آسٹریلوی خاتون کرکٹر میگ لیننگ کا نام دیتے ہوئے لکھا گیا کہ کپتان بننے کے بعد ان کرکٹر کی بیٹنگ یا بولنگ اوسط بہتر ہوئی، آپ کے خیال میں ان چاروں افراد میں سے کس نے قیادت سنبھالنے کے بعد بہترین کارکردگی دکھائی۔

24 گھنٹے جاری رہنے والی پولنگ میں 5 لاکھ سے زیادہ افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور عمران خان 47 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے، ابتدا میں پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان 49 فیصد کے ساتھ واضح برتری لیے ہوئے تھے لیکن آہستہ آہستہ ویرات کوہلی کے ووٹوں میں اضافہ ہوتا گیا، آخری لمحات میں سخت مقابلہ ہوا، پولنگ کا وقت ختم ہونے سے 17 منٹ قبل تک بھارتی کپتان کو ایک فیصد کی برتری حاصل تھی، آخر میں ڈرامائی انداز میں عمران خان کے چاہنے والوں نے ووٹنگ میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے زور لگایا اور بازی جیت لی۔

اس جیت کے بعد تو صارفین کے علاوہ پی ٹی آئی کے وزرا اور ممبران نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر اپنے لیڈر کی کامیابی کا بھرپور تذکرہ کیا، پارٹی کے اکاﺅنٹ سے ٹویٹ کیا گیا کہ عمران خان کا کوہلی سے موازنہ درست نہیں کیونکہ وہ صرف کرکٹر ہی نہیں، کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی کے بانی بھی ہیں۔دوسری جانب بھارتی صارفین نے دھاندلی کے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کوہلی جیت رہے تھے، اچانک عمران خان کی جیت کیسے ہوگئی، دونوں ملکوں کے سوشل میڈیا پر یہ بحث عروج پکڑتی گئی