بغیر علامات والے کورونا مریض دوسروں کے لیے کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں؟

طب کی دنیا میں انکشاف ہوا ہے کہ بغیر علامات والے کورونا مریض 60 فیصد وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں، کوئی نشانیاں ظاہر نہ ہونے پر وہ خود کو صحت مند سمجھتے ہیں لیکن یہ سوچ غیردانستہ طور پر کئی لوگوں تک وبا کے پھیلاؤ کی وجہ بنتی ہے جس کا اندازہ بعد میں ہوتا ہے۔

امریکا میں سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) نے ایک ماڈل تیار کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 60 فیصد کورونا بغیر علامات والے مریضوں کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ 60 میں 35 فیصد نئے کیسز کی وجہ ایسے افراد ہوتے ہیں جو اس وائرس کو علامات ظاہر ہونے سے قبل دیگر تک منتقل کردیتے ہیں۔

ماڈل کے مطابق 24 فیصد ایسے افراد ہوتے ہیں جن میں کبھی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں اور یہ بھی وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے خاموشی سے پھیلانے والے افراد کی بھی روک تھام کی جائے، اس کے لیے ایس او پیز اہم ہیں۔

محققین نے کہا ہے کہ فیس ماسک کا استعمال، ہاتھ دھونا اور سماجی دوری جیسے ٹولز کی مدد سے نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار سست کی جاسکتی ہے، اس طرح بڑے پیمانے پر لوگ بیمار ہونے سے بچ جائیں گے۔

خیال رہے کہ سی ڈی سی کا تیار کردہ ماڈل طبی جریدے جام نیٹ ورک اوپن میں شایع ہوچکا ہے۔ اس ماڈل کا مرکزی حصہ بغیر علامات والے مریضوں کی وجہ سے وائرس کا پھیلاؤ رہا، نتائج سے بغیر علامات والے مریضوں سے وائرس کے پھیلاؤ کے خیال کی تصدیق ہوئی جس نے ماہرین کے لیے مزید تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسن میں شایع شدہ تحقیق کے مطابق جنوبی کوریا کے سائنس دانوں نے اس خیال کو درست ثابت کر دیا ہے کہ جن مریضوں میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، وہ وائرس کو اتنا ہی پھیلا سکتے ہیں جتنا کہ علامات والے مریض اس کے پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

جنوبی کوریا میں کی گئی اس تحقیق میں اس سلسلے میں ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں، بغیر علامات والے مریضوں کی ناک، حلق اور پھیپھڑوں میں علامات والے مریضوں جتنا ہی وائرل لوڈ دیکھا گیا، وائرس کی موجودگی کا دورانیہ بھی دونوں گروپس میں تقریباً ایک جتنا ہی رہا۔