کیپٹل ہل حملہ، امریکی پولیس چیف کا اہم فیصلہ

واشنگٹن: گذشتہ روز ٹرمپ کی حمایتیوں کی جانب سے کیپٹل ہل پر حملے کے دوران زخمی ہونے والی پولیس اہلکار چل بسا، امریکی پولیس چیف نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ گذشتہ روز کانگریس کی عمارت پر حملے میں مظاہرین کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں زخمی پولیس اہلکار چل بسا، واشنگٹن پولیس کی پولیس اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر لوہے کے ڈنڈوں سے حملہ کیا تھا۔

کیپٹل ہل میں مظاہرین کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں اور پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد امریکی کیپٹل پولیس چیف نے مستعفی ہونےکا فیصلہ کیا ہے، اسپیکر کانگریس نینسی پلوسی نے کیپٹل پولیس چیف سےاستعفی مانگا تھا۔

گذشتہ روز امریکی پارلیمنٹ پر ہنگامہ آرائی کے بعد بعد وائٹ ہاؤس سے استعفوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، مستعفی ہونے والوں میں خاتون اول کی پریس سیکرٹری سمیت دیگر شخصیات بھی شامل ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشیر قومی سلامتی میٹ پوٹینگر نے استعفیٰ دے دیا ہے اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کو25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے برطرف کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب کیپٹل ہل میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکریٹری سارہ میتھیوز بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئی ہیں۔علاوہ ازیں خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف اور ٹرمپ کی سابق پریس سیکریٹری سٹیفینی گریشام سمیت وائٹ ہاؤس کی سوشل سکریٹری انا کرسٹینا بھی مستعفی ہوگئی ہیں، خبر کے مطابق ان تمام افراد نے کیپیٹل ہل میں پیش آنے والے پرتشدد اوقر افسوسناک واقعات کے بعد اپنے عہدوں سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

سارہ میتھیوز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز سے کم نہیں مگر کیپٹل ہل ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پریشان ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ امریکی قوم کو پرامن طور پر انتقال اقتدار کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین نے کیپٹل ہل پر دھاوا بولا اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں ایک خاتون سمیت4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔