کورونا وائرس کی نئی اقسام، جاپانی سائنسدانوں نے مشکل کا حل ڈھونڈ لیا

وکیو : کورونا وائرس میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق جاپانی سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں اس بات کا پتہ لگا لیا ہے کہ یہ کب اور کیسے اپنی ہیئت کو بدلتا ہے، اس کو جاننے کیلئے صرف چند گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ جاپان میں محققین نے برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں تیزی سے پھیلتی ہوئی کورونا وائرس کی متغیر اقسام کا فوری پتہ لگانے کی غرض سے ایک طریقہ تیار کرلیا ہے۔

اس حوالے سے محققین کا کہنا ہے کہ وائرس کے جینیاتی کوڈ کو پڑھنے کیلئے اس وقت خصوصی ترتیبی آلے کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس عمل میں12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگتا ہے۔قومی انسٹی ٹیوٹ برائے وبائی امراض کے سائنسدانوں نے پی سی آر ٹیسٹنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایک تیز تر طریقہ تیار کیا ہے جس سے وہ مذکورہ’’این501وائی‘‘کے تغیرات کی تصدیق کر سکیں گے۔

جاپانی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس عمل میں صرف چند گھنٹے لگتے ہیں اور موجودہ پی سی آر ٹیسٹنگ آلہ استعمال کرکے نمونوں کی بڑی تعداد کی جانچ پڑتال ممکن ہوسکے گی۔مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کے انفلوئنزا وائرس تحقیقی مرکز کے ڈائریکٹر ہاسے گاوا ہِیدیکی نے میڈیا کو بتایا کہ اس طریقے کو زیادہ درست بنانے کیلئے مزید کام کیا جائے گا تاکہ اسے نگرانی کے نظام کو تقویت دینے کیلئے اسے بہتر طور پر استعمال کیا جاسکے۔