دنیا بھر کی معیشت کو سپورٹ کرنے کے لیے سعودی عرب کا اہم اقدام

ریاض: سعودی عرب نے دنیا بھر کی تیل منڈیوں کے استحکام کے لیے یومیہ تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے فروری اور مارچ کے دوران جذبہ خیر سگالی کے طور یومیہ تیل پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے تیل منڈیوں کے استحکام کے لیے نیک نیتی کے اظہار کے طور پر کیا گیا ہے۔سعودی وزیر توانائی نے اوپیک پلس اجلاس کو بتایا کہ مملکت فروری اور مارچ میں رضا کارانہ طور پر یومیہ ایک ملین بیرل کی کمی کرے گا، یہ کمی اس اتفاق رائے کے علاوہ ہے جس پر اتفاق ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم مارکیٹ اور انڈسٹری کو سپورٹ کریں گے۔ ہم اس انڈسٹری کے سرپرست ہیں، آج ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ کوئی چھوٹا سمجھوتہ نہیں ہے۔اوپیک پلس میں شامل ممالک نے روس اور قازقستان کو فروری اور مارچ کے دوران تیل پیداوار میں یومیہ 75 ہزار بیرل اضافے کی اجازت دی ہے۔اوپیک پلس گروپ نے طے کیا ہے کہ وزرائے پٹرولیم کا آئندہ اجلاس 3 فروری کو محدود پیمانے پر ہوگا جبکہ وسیع البنیاد اجلاس 4 مارچ 2021 کو منعقد کیا جائے گا۔ اوپیک پلس میں شامل ممالک نے کوٹے کی پابندی نہ کرنے والے ملکوں سے کہا ہے کہ وہ 15 جنوری تک تلافی اسکیمیں پیش کریں۔

اوپیک پلس معاہدے کے تحت روس کو تیل پیداوار میں یومیہ 65 ہزار بیرل اور قازقستان کو 10 ہزار بیرل پیداوار بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے، دونوں ممالک کو یہ اجازت فروری اور مارچ کے لیے دی گئی ہے۔اوپیک کے رکن 13 ممالک اور روس کے زیر قیادت 10 اتحادی ممالک پر مشتمل اوپیک پلس گروپ نے تیل منڈی میں بے یقینی کی صورتحال کے پیش نظر درمیانہ حل طے کرنے کی مہم چلائی تھی۔بعض ممالک موجودہ پیداواری کوٹے کی پابندی پر زور دے رہے تھے جبکہ دیگر یومیہ 5 لاکھ بیرل اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔