نائب صدر مائیک پینس نے ٹرمپ سے راہیں جدا کرلیں

واشنگٹن: صدر ٹرمپ کے نائب مائیک پینس نے بھی ان سے راستے جدا کرلیے اور نو منتخب صدر جوبائیڈن کے انتخابی نتائج کی توثیق نہ کرنے کے مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا۔امریکی کانگریس میں نو منتخب صدر کو حاصل ہونے والے الیکٹرول کالج کے ووٹوں کی باقاعدہ توثیق کے لیے اجلاس کا آغاز ہوا، قانون کے مطابق جس کی صدارت نائب صدر مائیک پنس کررہے ہیں۔

اجلاس شروع ہونے سے کچھ دیر قبل ہی مائیک پینس نے اپنے خط میں کہا ہے کہ کسی امیدوار کو حاصل ہونے والے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی تصدیق نہ کرنے کا اختیار نائب صدر کو حاصل نہیں۔نائب صدر کا کہنا تھا کہ میں نے سوچ سمجھ کر اپنے حلف کے مطابق یہ فیصلہ کیاہے۔ اپنے حلف کے مطابق میں آئین کا دفاع کرنے کا پابند ہوں۔ دستور مجھے کسی بھی ووٹ کے درست و نا درست ہونے سے متعلق یک طرفہ فیصلے کا اختیار نہیں دیتا۔

نائب صدر نے کہا ہے کہ لاکھوں امریکیوں کی طرح انتخابی نتائج کی شفافیت سے متعلق تشویش رکھتا ہوں لیکن نائب صدر کو صدارتی انتخاب کے فیصلے کا حتمی طور پر مجاز سمجھنا کسی اعتبار سے درست نہیں۔ امریکا کی صدرات صرف اور صرف امریکی عوام کی ملکیت ہے۔ امریکا کے انتخابی عمل میں الیکٹورل کالجیٹ کے حاصل کردہ ووٹوں کی توثیق کانگریس سے حاصل کی جاتی ہے اور دستور ک مطابق نائب صدر اس اجلاس کی صدارت کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے نائب صدر مائیک پینس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان ریاستوں کے بعض کالجیٹ ووٹس کی توثیق کرنے سے انکار کردیں جہاں ٹرمپ نے انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے تاہم گزشتہ چار برس میں ٹرمپ کے فرماں بردار نائب تصور ہونے والے مائیک پینس نے ان کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔

ایک جانب جہاں کانگریس میں الیکٹورل ووٹوں کی رسمی توثیق کا سلسلہ جارہی ہیں وہیں امریکی دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں ٹرمپ کے حامی انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی ایسی ہی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے نائب کے ممکنہ فیصلے سے متعلق مایوسی کا اظہار کردیا تھا۔ ٹرمپ نے حامیوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم کبھی شکست تسلیم نہیں کریں گے۔ بعض علاقوں میں ٹرمپ کے حامیوں کی سڑکوں پرمسلح گشت کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔